فراق یار میں ایسی بھی ایک شب آئی
Naeem Sabaفراق یار میں ایسی بھی ایک شب آئی
چراغ جل گیا آنکھوں میں نیند جب آئی
امید و بیم کے عالم میں تھی نگاہ شوق
کسی کی یاد مرے دل میں نیم شب آئی
سحر کے بعد بھی تھا تیرا انتظار مجھے
نگاہ در سے ہر اک بار تشنہ لب آئی
نہ شغل بادہ کشی ہے نہ شوق رامش و رنگ
یہ کس مقام پر اب محفل طرب آئی
خم و سبو بھی ہیں لبریز اب شرابوں سے
یہ دیکھنا ہے کہ رندوں کو نیند کب آئی
میں تیرے شہر میں تجھ سے بھی سر کشیدہ ہوں
تو مجھ سے ملنے سر راہ بے سبب آئی
ستارے ڈوب گئے اور شب تمام ہوئی
چراغ بجھ گیا آنکھوں میں نیند تب آئی
نہ دل میں موج تمنا نہ لب پہ حرف وفا
یہ کس روش پہ صباؔ زندگی ہے اب آئی