Poetry
Poet
Meter
- وفا کر رہا ہوں جفا چاہتا ہوںخطا کر رہا ہوں سزا چاہتا ہوںUrooj Qadri
- وفا کی راہ میں گل ہی نہیں ہے خار بھی ہےیہ جرم وہ ہے کہ پاداش اس کی دار بھی ہےUrooj Qadri
- ہو جاتے ہیں جب اپنے مریضوں سے خفا اورکرتے ہیں وہ ایجاد ستم اور جفا اورUrooj Qadri
- یہ عشق کی ہے راہ نہ یوں ڈگمگا کے چلہمت کو اپنی تول قدم کو جما کے چلUrooj Qadri
- یہ ہے کون سی حکایت یہ ہے کون سا ترانہنہ شکایت غم دل نہ حکایت زمانہUrooj Qadri
- کبھی جو روح پہ ہوتی ہے بے حسی طاریدماغ کیف سے ہوتا ہے یک قلم عاریUrooj Qadri
- نفاق سے خدا بچائے روگ یہ شدید ہےبلائے جان آدمی نشان بزدلی ہے یہUrooj Qadri
- یاسمورد ظلم ہوں آماج گہ تیر ہوں میںUrooj Qadri
- ادا میں بانکپن انداز میں اک آن پیدا کرتجھے معشوق بننا ہے تو پوری شان پیدا کراحسن مارہروی
- اک نظر میں درد کھو دینا دل بیمار کایہ تو ادنیٰ سا کرشمہ ہے نگاہ یار کااحسن مارہروی
- اے دل نہ سن افسانہ کسی شوخ حسیں کاناعاقبت اندیش رہے گا نہ کہیں کااحسن مارہروی
- باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیاکوئی پری بنا کوئی دیوانہ ہو گیااحسن مارہروی
- تمہاری لن ترانی کے کرشمے دیکھے بھالے ہیںچلو اب سامنے آ جاؤ ہم بھی آنکھ والے ہیںاحسن مارہروی
- جب تک اپنے دل میں ان کا غم رہاحسرتوں کا رات دن ماتم رہااحسن مارہروی
- چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جاناجس طرح آنکھ اٹھے محو ادا ہو جانااحسن مارہروی
- دل جھکا مائل طبیعت ہو گئیآج بسم اللہ الفت ہو گئیاحسن مارہروی
- ساقی و واعظ میں ضد ہے بادہ کش چکر میں ہےتو بہ لب پر اور لب ڈوبا ہوا ساغر میں ہےاحسن مارہروی
- سنگ در بن کر بھی کیا حسرت مرے دل میں نہیںتیرے قدموں میں ہوں لیکن تیری محفل میں نہیںاحسن مارہروی
- سو حشر میں لیے دل حسرت مآب میںآباد ہو رہا ہوں جہان خراب میںاحسن مارہروی
- عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریںہوش کا سرمایہ نذر حسن بے پروا کریںاحسن مارہروی
- قاصد نئی ادا سے ادائے پیام ہومطلب یہ ہے کہ بات نہ ہو اور کلام ہواحسن مارہروی
- کشش حسن کی یہ انجمن آرائی ہےساری دنیا ترے کوچے میں سمٹ آئی ہےاحسن مارہروی
- کیا ضرورت بے ضرورت دیکھناتم نہ آئینے کی صورت دیکھنااحسن مارہروی
- کیوں چپ ہیں وہ بے بات سمجھ میں نہیں آتایہ رنگ ملاقات سمجھ میں نہیں آتااحسن مارہروی
- مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہےیہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہےاحسن مارہروی
- مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائےسو حجابوں میں جو پنہاں ہے نمایاں ہو جائےاحسن مارہروی
- نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارادنیا میں اچھلتا ہے بہت نام تمہارااحسن مارہروی
- یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتیوہاں اثر نہیں ہوتا خبر نہیں ہوتیاحسن مارہروی
- آ جاؤ محبت کے یہ موسم نہ ملیں گےموسم جو پلٹ آئے تو پھر ہم نہ ملیں گےDard Sironji
- اس زلف گرہ گیر کا بل کھانا نیا ہےاس بزم میں شاید کوئی دیوانہ نیا ہےDard Sironji
- بدن میں دوستو جب تک کہ جان باقی ہےقدم قدم پہ ابھی امتحان باقی ہےDard Sironji
- ترے فراق میں جب دل نڈھال ہوتا ہےسکوں کی سانس بھی لینا محال ہوتا ہےDard Sironji
- جب سے اس شوخ کے پہلو میں جگہ پائی ہےدل کے ویران گلستاں میں بہار آئی ہےDard Sironji
- جمال حسن کو جب بے حجاب دیکھیں گےنگاہ شوق ترا انتخاب دیکھیں گےDard Sironji
- جھلملاتی ہوئی چلمن جو سجا رکھی ہےتشنگی دید کی کچھ اور بڑھا رکھی ہےDard Sironji
- چرا کر نظر اک نظر دیکھ لینامحبت کا پھر تم اثر دیکھ لیناDard Sironji
- خود کو مصروف عبادت کر دیاحسرتوں کو دل سے رخصت کر دیاDard Sironji
- دل کے بجھتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتا ہےکون ماضی کے دریچوں سے صدا دیتا ہےDard Sironji
- زمانے کو خود سے نہ انجان رکھکوئی منفرد اپنی پہچان رکھDard Sironji
- عیش و عشرت بھرے ایام سے ڈر لگتا ہےزندگانی ترے انجام سے ڈر لگتا ہےDard Sironji
- غم کا طوفاں آئے گا میں نے کبھی سوچا نہ تھاسب ہی کچھ لے جائے گا میں نے کبھی سوچا نہ تھاDard Sironji
- کیا خبر تھی اس قدر وہ بے وفا ہو جائے گاایک دن سایہ مرا مجھ سے جدا ہو جائے گاDard Sironji
- گلشن میں تھی بہار ابھی کل کی بات ہےپھولوں پہ تھا نکھار ابھی کل کی بات ہےDard Sironji
- لاکھ کوشش تو کی مگر نہ ہوئیزندگی چین سے بسر نہ ہوئیDard Sironji
- نفرت کا ترے دل میں اگر بال رہے گامحروم محبت سے بہر حال رہے گاDard Sironji
- ہر تمنا پوری کر دے جو ہمارے دل میں ہےآنے والے اب تو آ جا زندگی مشکل میں ہےDard Sironji
- ہم نشیں جس کو سمجھتا تھا ستم گر نکلاآستیں میں وہ چھپائے ہوئے خنجر نکلاDard Sironji
- ہمیشہ ماننا اے یار مشورہ دل کاکبھی غلط نہیں ہوتا ہے فیصلہ دل کاDard Sironji
- ازل تھے ہے مجے خوباں سوں اخلاصابد لگ مج ہے محبوباں سوں اخلاصمحمد قلی قطب شاہ
- پیا باج پیالا پیا جائے ناپیا باج یک تل جیا جائے نامحمد قلی قطب شاہ