بدن میں دوستو جب تک کہ جان باقی ہے

Dard Sironji

بدن میں دوستو جب تک کہ جان باقی ہے

قدم قدم پہ ابھی امتحان باقی ہے

تم اپنے ظلم و تشدد سے باز مت آؤ

ہمارے پاس بھی تیر و کمان باقی ہے

ہم ان کو پیش کریں اپنی التجا کیسے

کوئی سلیقہ نہ طرز بیان باقی ہے

کبھی جو زخم محبت میں تھے دئے تم نے

ہمارے دل پہ اسی کا نشان باقی ہے

یہ سچ ہے درد نئے دور میں ہر انساں کو

سکون دل ہے نہ امن و امان باقی ہے