ہو جاتے ہیں جب اپنے مریضوں سے خفا اور

Urooj Qadri

ہو جاتے ہیں جب اپنے مریضوں سے خفا اور

کرتے ہیں وہ ایجاد ستم اور جفا اور

اے ظلم سراپا کبھی اس پر بھی نظر کر

کیا میرا خدا اور ہے تیرا ہے خدا اور

مشکل ہے بتانا کہ ہے کیا فرق مگر ہے

لیلیٰ کی ادا اور ہے مجنوں کی ادا اور

تسلیم کہ دنیا ہی میں ہے جیل بھی لیکن

اندر کی فضا اور ہے باہر کی فضا اور

کہتا ہے یہ قیدی کہ ہوا ایک نہیں ہے

باہر کی ہوا اور ہے اندر کی ہوا اور

مومن کے لئے جیل ہے دنیائے دنی بھی

دنیا کی فضا اور ہے عقبیٰ کی فضا اور

بیمار مسرت کی دوا عیش کی لذت

بیمار محبت کا مرض اور دوا اور

اللہ کرے تجھ کو ترے نور سے آگاہ

محفل کا دیا اور ترے دل کا دیا اور

انجام محبت سے عروج اپنے ہے واقف

تا زیست ہے قسمت میں جفا اور بلا اور