نفاق سے خدا بچائے روگ یہ شدید ہے
Urooj Qadriنفاق سے خدا بچائے روگ یہ شدید ہے
بلائے جان آدمی نشان بزدلی ہے یہ
زوال آدمی ہے یہ وبال آدمی ہے یہ
اگر کہوں درست ہے کہ مرگ آدمی ہے یہ
یہ گندگی کا ڈھیر ہے غلاف میں ڈھکا چھپا
یہ خوفناک زہر ہے مٹھاس میں ملا جلا
وبائے ہولناک ہے بلائے ہولناک ہے
یہ چلتی پھرتی آگ ہے دیار و ملک و شہر میں
نفاق سے خدا بچائے روگ یہ خبیث ہے
لباس جسم آدمی میں کوڑھ ہے چھپا ہوا
منافقوں کی خصلتیں عجیب ہیں غریب ہیں
زباں پہ کچھ ہے دل میں کچھ کہیں گے کچھ کریں گے کچھ
زباں پہ دوستی کا راگ آستین میں چھری
دلوں میں بغض ہے بھرا مگر لبوں پہ ہے ہنسی
زبان پر خدا کی رٹ دلوں میں فکر شیطنت
یہ اپنے آپ ہیں خدا غرض کو پوجتے ہیں یہ
یہ نفس کے غلام ہیں مفاد کے غلام ہیں
یہ اپنے آپ مقتدی یہ اپنے خود امام ہیں