جب سے اس شوخ کے پہلو میں جگہ پائی ہے

Dard Sironji

جب سے اس شوخ کے پہلو میں جگہ پائی ہے

دل کے ویران گلستاں میں بہار آئی ہے

اب تو چلمن رخ روشن سے ہٹا دے جاناں

دل تری دید کا برسوں سے تمنائی ہے

عجب انداز سے لوٹا ہے متاع دل کو

کتنی پر کیف مری جاں تری انگڑائی ہے

ڈوب جاؤ گے اگر اس سے ملائیں نظریں

اس کی آنکھوں میں سمندر کی سی گہرائی ہے

دیکھ پچھتائے گا دل توڑ کے جانے والے

کون ہے میرے سوا جو ترا شیدائی ہے

بغض و نفرت کے سوا اور یہاں کچھ بھی نہیں

زندگی میری مجھے دردؔ کہاں لائی ہے