گلشن میں تھی بہار ابھی کل کی بات ہے
Dard Sironjiگلشن میں تھی بہار ابھی کل کی بات ہے
پھولوں پہ تھا نکھار ابھی کل کی بات ہے
تم ہی ہمارے واسطے تکتے تھے رہگزر
کرتے تھے انتظار ابھی کل کی بات ہے
پھولوں کی طرح جن کو رکھا جان سے عزیز
بن کر چھپے ہیں خار ابھی کل کی بات ہے
اس نے بہت چھپائے مگر غم نہ چھپ سکے
آنکھیں تھیں اشک بار ابھی کل کی بات ہے
وہ زندگی سے میری بہت دور ہو گیا
تھا میرا غم گسار ابھی کل کی بات ہے
اے دردؔ تو بھی میری نگاہوں سے گر گیا
کرتا تھا تجھ کو پیار ابھی کل کی بات ہے