Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. داد ملتی نظر اہل نظر سے پہلےموت آتی جو کہیں دل کو جگر سے پہلےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  2. دنیائے غم کو زیر و زبر کر سکے تو کررحمت کی مجھ پہ ایک نظر کر سکے تو کرمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  3. سر و گردن کی جدائی دیکھوتیغ قاتل کی صفائی دیکھومیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  4. شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہیہائے کم بخت کہیں درد جگر ہو تو سہیمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  5. کسی حسرت زدہ نے خود کشی منظور کی دل سےصدا لبیک کی سن کر زمین کوئے قاتل سےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  6. کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیااچھا ہوا جو دل کسی مشکل میں رہ گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  7. گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میںجب کہ طاقت تھی کبھی آپ کے بیماروں میںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  8. لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگآئیے دیکھیے مٹتی ہوئی تصویر کا رنگمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  9. میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیامیرے بھی دل میں بڑا ارماں ستم گر رہ گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  10. میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیاانسانیت کو دیکھ کے انساں کیا گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  11. نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئےجی میں آتا ہے کہ اب قطرہ کو دریا کیجئےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  12. نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگامرے کہنے میں کسی دن جو مرا دل ہوگامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  13. ہو چکا جو کہ مقدر میں تھا درماں ہونااب ترے ہاتھ ہے مشکل مری آساں ہونامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  14. جور زمیں نہ تھا ستم آسماں نہ تھاوہ بھی تھا وقت جب کہ غم دو جہاں نہ تھامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  15. نظم اتحادمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  16. ہجر کی راتیںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  17. آنکھوں کو اک خواب دکھایا جا سکتا ہےقصہ یوسف کا دہرایا جا سکتا ہےNadiya ambar lodhi
  18. پھول ہے دل انگارہ کیسے ہو سکتا ہےمیٹھا پانی کھارا کیسے ہو سکتا ہےNadiya ambar lodhi
  19. درد اور غم کے مارے نکلے رات سفر صحرا اور میںایک ہی جنگ کے ہارے نکلے رات سفر صحرا اور میںNadiya ambar lodhi
  20. زمیں لپیٹتا ہے آسماں سمیٹتا ہےکہاں کی بات کو یہ دل کہاں سمیٹتا ہےNadiya ambar lodhi
  21. سیم و زر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میںکسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی میںNadiya ambar lodhi
  22. کپڑوں کی الماری -نہیںوہاں سے تو بہو بیگم کے ہتھے چڑھ سکتا ہے - کہاں رکھوں ؟ کیا کروں!Nadiya ambar lodhi
  23. کس کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہےدور تک خواہش اڑتی جاتی ہےNadiya ambar lodhi
  24. کیوں میں بار دگر جاؤںپھر سے اس کے در جاؤںNadiya ambar lodhi
  25. مجھ میں سوئے ہوئے ماہتاب سے کم واقف ہےتو مری آنکھ کے تالاب سے کم واقف ہےNadiya ambar lodhi
  26. وہ گھر تنکوں سے بنوایا گیا ہےوہاں ہر خواب دفنایا گیا ہےNadiya ambar lodhi
  27. ہم کو آغاز سفر مارتا ہےمارتا کوئی نہیں ڈر مارتا ہےNadiya ambar lodhi
  28. تم ٹھہرو ذرامیں آتی ہوںNadiya ambar lodhi
  29. خوش دامن کے دامن سےگر وابستہ ہو خوشیاںNadiya ambar lodhi
  30. میرے مالککیا ہم باندیاں ہیںNadiya ambar lodhi
  31. تم مری آواز دبا نہیں سکتےمرے لکھے ہوئے الفاظ مٹا نہیں سکتےNadiya ambar lodhi
  32. تم ہجرت کا کرب نہیں جانتےتم نے انتظار حسینؔ کے افسانے نہیں پڑھےNadiya ambar lodhi
  33. مذہب کا آکٹوپسپکڑ لیتا ہے فرد کوNadiya ambar lodhi
  34. بس چند ہم خیال ہیں عنبرؔ مجھے عزیزبے حس جم غفیر نہیں چاہیے مجھےNadiya ambar lodhi
  35. پا بہ جولاں تو ہر اک شخص یہاں ہے عنبرؔتری زنجیر ہی کیوں شور بپا کرتی ہےNadiya ambar lodhi
  36. زندہ رہتے ہیں کیا یہ کافی نہیںکوئی لازم ہے کہ پھر خوش بھی ہوںNadiya ambar lodhi
  37. عنبرؔ اس کے بیتے کل کا قصہ ہوں میںپھر کاہے کا شوق کہ اس کو یاد بھی ہوں میںNadiya ambar lodhi
  38. آپ کیا جانیں محبت کا تماشا کیا ہےشعلۂ عشق کسے کہتے ہیں سودا کیا ہےUrooj Qadri
  39. آ گیا وقت کہ ہو دعوت عام اے ساقیبھیج دے چاروں طرف اپنا پیام اے ساقیUrooj Qadri
  40. اس سینے کی وقعت ہی کیا ہے جس سینے میں تیرا نور نہیںاس کاسۂ سر کی کیا قیمت جو سنگ جنوں سے چور نہیںUrooj Qadri
  41. بنی ہوئی ہیں مرے دل کی ترجماں آنکھیںسنا رہی ہیں محبت کی داستاں آنکھیںUrooj Qadri
  42. بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیںہمارے سوا نکتہ داں اور بھی ہیںUrooj Qadri
  43. ترے دریدہ گریباں میں یہ رفو کیا ہےتجھے خبر نہیں مجنوں کی آبرو کیا ہےUrooj Qadri
  44. تصورات کی دنیا بسا رہا ہوں میںترے خیال سے تسکین پا رہا ہوں میںUrooj Qadri
  45. حیات ہے مرے دل کی کسی کی زندہ یاداسی سے ہے یہ درخشاں اسی سے ہے آبادUrooj Qadri
  46. دنیا سے بے شمار مسلماں گزر گئےحسن ازل پہ ششدر و حیراں گزر گئےUrooj Qadri
  47. شہیدوں کا ترے شہرہ زمیں سے آسماں تک ہےفلک سے بلکہ آگے بڑھ کے تیرے آستاں تک ہےUrooj Qadri
  48. مری آرزو کی حدود میں یہ فلک نہیں یہ زمیں نہیںمجھے بزم قدس میں دے جگہ جو وہاں نہیں تو کہیں نہیںUrooj Qadri
  49. میں بتاؤں عشق کیا ہے ایک پیہم اضطرابدھیمی دھیمی آنچ کہیے یا مسلسل التہابUrooj Qadri
  50. نہ راہ رو ہیں اکٹھا نہ راہ داں پیداتو کیا زمین سے ہو جائے کارواں پیداUrooj Qadri