نفرت کا ترے دل میں اگر بال رہے گا
Dard Sironjiنفرت کا ترے دل میں اگر بال رہے گا
محروم محبت سے بہر حال رہے گا
سب خاک میں مل جائے گا پل بھر میں ستمگر
یہ تیرا تکبر نہ زر و مال رہے گا
الجھا ہوں میں دنیا میں فقط تیری بدولت
اے زندگی کب تک یہ ترا جال رہے گا
ماں باپ کی خدمت سے جو محروم رہا ہو
پھر کیسے زمانے میں وہ خوشحال رہے گا
بمبئی کو تو ممبئی میں بدل سکتے ہو لیکن
بھوپال تو ہر حال میں بھوپال رہے گا
یادوں کی کسک آج بھی جاتی نہیں دل سے
کب تک ترا اے دردؔ یہی حال رہے گا