Poetry
Poet
Meter
- اپنا ہر عضو چشم بینا ہےاس قدر انتظار تیرا ہےگویا فقیر محمد
- تم وفا کا عوض جفا سمجھےاے بتو تم سے بس خدا سمجھےگویا فقیر محمد
- آئینہ تمہارے نقش پا کاخورشید کو دے سبق جلا کاحسن بریلوی
- تم بھی ہو خنجر خوشاب بھی ہےاور یہ خانماں خراب بھی ہےحسن بریلوی
- جب مرا مہر جلوہ گر ہوگادوپہر ہوگا جو پہر ہوگاحسن بریلوی
- جلوے ترے جو رونق بازار ہو گئےخوبان خود فروش خریدار ہو گئےحسن بریلوی
- چھپ گیا یار خود نما ہو کررہ گئی چشم شوق وا ہو کرحسن بریلوی
- حال مرگ بے کسی سن کر اثر کوئی نہ ہوسچ تو یہ ہے آپ سا بھی بے خبر کوئی نہ ہوحسن بریلوی
- حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلاعشق اپنے مجرموں کو پا بہ جولاں لے چلاحسن بریلوی
- حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلاعشق اپنے مجرموں کو پا بجولاں لے چلاحسن بریلوی
- دیکھے اگر یہ گرمئ بازار آفتابسر بیچ کر ہو تیرا خریدار آفتابحسن بریلوی
- راز دل لاتے ہیں زباں تک ہمدکھ بھریں اے خدا کہاں تک ہمحسن بریلوی
- کچھ حسینوں کی محبت بھی بری ہوتی ہےکچھ یہ بے چپن طبیعت بھی بری ہوتی ہےحسن بریلوی
- کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سناسنتا ہوں آج تو نے مرا ماجرا سناحسن بریلوی
- کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتاتو جھنجھلا کر کہا تیرا کلیجا ہو نہیں سکتاحسن بریلوی
- مرے مرنے سے تم کو فکر اے دل دار کیسی ہےتمہاری دل لگی کو محفل اغیار کیسی ہےحسن بریلوی
- مل گیا دل نکل گیا مطلبآپ کو اب کسی سے کیا مطلبحسن بریلوی
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیںلیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیںحسن بریلوی
- وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہےمیں ان کو یاد کرتا ہوں محبت ہی کچھ ایسی ہےحسن بریلوی
- وہ من گئے تو وصل کا ہوگا مزا نصیبدل کی گرہ کے ساتھ کھلے گا مرا نصیبحسن بریلوی
- ہر سخن میں وہ سحر کرتے ہیںمردے جیتے ہیں زندے مرتے ہیںحسن بریلوی
- ان کا جلوہ نہیں دیکھا جاتادیکھ دیکھا نہیں دیکھا جاتاحسن بریلوی
- چشم ظاہر سے رخ یار کا پردہ دیکھاآنکھیں جب پھوٹ گئیں تب یہ تماشا دیکھاحسن بریلوی
- کون کہتا ہے کہ آ کر دیکھ لوحال عاشق کا بلا کر دیکھ لوحسن بریلوی
- اس پری رو نے نہ مجھ سے ہے نباہی کیا کروںسر کدھر پٹکوں کدھر جاؤں الٰہی کیا کروںمرزا محمد تقی ہوس
- بے وجہ نہیں گرد پریشاں پس محفلآتا ہے کوئی بے سر و ساماں پس محفلمرزا محمد تقی ہوس
- تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیںاے دل خانہ خراب تجھ کو بھی ہے کل کہیںمرزا محمد تقی ہوس
- جنگلوں میں جستجوئے قیس صحرائی کروںکب تلک ڈھونڈوں کہاں تک جادہ پیمائی کروںمرزا محمد تقی ہوس
- جوانی یاد ہم کو اپنی پھر بے اختیار آئیہوا دیوانوں میں جب غل بہار آئی بہار آئیمرزا محمد تقی ہوس
- دیکھیں کیا اب کے اسیری ہمیں دکھلاتی ہےلوگ کہتے ہیں کہ پھر فصل بہار آتی ہےمرزا محمد تقی ہوس
- رنگ گل شگفتہ ہوں آب رخ چمن ہوں میںشمع حرم چراغ دیر قشقہ برہمن ہوں میںمرزا محمد تقی ہوس
- شوق خراش خار مرے دل میں رہ گیاپائے تلاش پہلی ہی منزل میں رہ گیامرزا محمد تقی ہوس
- کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھےکانپتے تھے بدنامی کے ڈر سے آنسو پی پی جاتے تھےمرزا محمد تقی ہوس
- کیا مزا ہو جو کسی سے تجھے الفت ہو جائےجی کڑھے فکر رہے میری سی حالت ہو جائےمرزا محمد تقی ہوس
- مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچایہ دود دل سوختہ افلاک کو پہنچامرزا محمد تقی ہوس
- میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیامسکرا کہنے لگا شوق مرا تم کو کیامرزا محمد تقی ہوس
- میں نہ سمجھا بلبل بے بال و پر نے کیا کہاگوش گل میں قاصد باد سحر نے کیا کہامرزا محمد تقی ہوس
- نت جی ہی جی میں عشق کے صدمے اٹھائیوشکوے کی بات منہ پہ ہوسؔ تم نہ لائیومرزا محمد تقی ہوس
- نہ پایا کھوج برسوں نقش پائے رفتگاں ڈھونڈھےنہ ہو ممکن پتا جن کا انہیں کوئی کہاں ڈھونڈھےمرزا محمد تقی ہوس
- ہرگز نہ مرے محرم ہمراز ہوئے تمآئینے میں اپنے ہی نظر باز ہوئے تممرزا محمد تقی ہوس
- ہم سے وارفتہ الفت ہیں بہت کم پیداہاتھ سے کھو نہ ہمیں ہوں گے نہ پھر ہم پیدامرزا محمد تقی ہوس
- ہنستے تھے مرے حال کو جو یار دیکھ کران سب نے رو دیا مجھے بیمار دیکھ کرمرزا محمد تقی ہوس
- ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھےجب اٹھے تھے زانو سے ہاتھ آشنا تھےمرزا محمد تقی ہوس
- یہی کہتی لیلیٔ سوختہ جاں نہیں کھاتی ادب سے خدا کی قسمغم قیس سوا مجھے غم نہیں کچھ اسی کشتۂ ناز و ادا کی قسممرزا محمد تقی ہوس
- ماتھے پہ لگا صندل وہ ہار پہن نکلےہم کھینچ وہیں قشقہ زنار پہن نکلےمرزا محمد تقی ہوس
- ہوئے عازم ملک عدم جو ہوسؔ تو خوشی یہ ہوئی تھی کہ غم سے چھٹےکبھی دیر میں تھے کسی بت پہ فدا کبھی کعبہ میں کرتے جا کے دعامرزا محمد تقی ہوس
- اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہےوہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہےمرزارضا برق
- بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیںان کا وہ طور نہیں میرا یہ دستور نہیںمرزارضا برق
- پردہ الٹ کے اس نے جو چہرا دکھا دیارنگ رخ بہار گلستاں اڑا دیامرزارضا برق
- جب عیاں صبح کو وہ نور مجسم ہو جائےگوہر شبنم گل نیر اعظم ہو جائےمرزارضا برق