Poetry
Poet
Meter
- خبریوسف ظفر
- شکایتیوسف ظفر
- سوالییوسف ظفر
- رنگ گفتگویوسف ظفر
- انار کلییوسف ظفر
- وادی نیلیوسف ظفر
- قدر و قیمتیوسف ظفر
- مینار سکوتیوسف ظفر
- کھوئے ہوئے زمانےاحمق پھپھوندوی
- مستقبلاحمق پھپھوندوی
- دھرم و ایماناحمق پھپھوندوی
- فسانۂ عبرتاحمق پھپھوندوی
- ملک کی محبتاحمق پھپھوندوی
- نعرۂ حقاحمق پھپھوندوی
- ہمارا دیساحمق پھپھوندوی
- راہ راستاحمق پھپھوندوی
- علم کی ضرورتاحمق پھپھوندوی
- خدا اس قوم کو عزت نہیں دیتا زمانے میںجسے قومی بزرگوں کا ادب کرنا نہیں آتااحمق پھپھوندوی
- بدل دےاحمق پھپھوندوی
- پیام آزادیاحمق پھپھوندوی
- ہمت مرداںاحمق پھپھوندوی
- نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین گلشن میںکہو بلبل سے اب انڈے نہ رکھے آشیانے میںاحمق پھپھوندوی
- خدمت وطناحمق پھپھوندوی
- احساس غیرتاحمق پھپھوندوی
- حصول آزادی کی دقتیںاحمق پھپھوندوی
- دعا (احمق پھپھوندوی)احمق پھپھوندوی
- ضرورت اتحاداحمق پھپھوندوی
- انقلاب (احمق پھپھوندوی)احمق پھپھوندوی
- بڑھے چلواحمق پھپھوندوی
- اچھے دناحمق پھپھوندوی
- اس کو غفلت پیشہ کہہ آتے ہیں ہمبھول جانا یاد دلواتے ہیں ہمگویا فقیر محمد
- اس کو مجھ سے رُٹھا دیا کس نےمیرے دل کو دکھا دیا کس نےگویا فقیر محمد
- الفت یہ چھپائیں ہم کسی کیدل سے بھی کہیں نہ اپنی جی کیگویا فقیر محمد
- بھولا ہے بعد مرگ مجھے دوست یاں تلکسگ بھی نہ اس کا آیا مری استخواں تلکگویا فقیر محمد
- تکلم جو کوئی کرتا ہے فانیہماری اور تمہاری ہے کہانیگویا فقیر محمد
- جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہےیہ کہیے لن ترانی اب کہاں ہےگویا فقیر محمد
- حسرت اے جاں شب جدائی ہےمژدہ اے دل کہ موت آئی ہےگویا فقیر محمد
- دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کرہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کرگویا فقیر محمد
- قتل عشاق کیا کرتے ہیںبت کہاں خوف خدا کرتے ہیںگویا فقیر محمد
- کس قدر مجھ کو ناتوانی ہےبار سر سے بھی سرگرانی ہےگویا فقیر محمد
- کس ناز سے واہ ہم کو ماراکی ترچھی نگاہ ہم کو ماراگویا فقیر محمد
- کھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پرچھا گئی کالی گھٹا سی آن کر گلزار پرگویا فقیر محمد
- کیا ہیں شیدائے قد یار درختہیں جو شبنم سے اشک بار درختگویا فقیر محمد
- کیوں کر نہ خوش ہو سر مرا لٹکا کے دار میںکیا پھل لگا ہے نخل تمنائے یار میںگویا فقیر محمد
- لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہےآج عیسیٰ سے یہ بیمار جدا ہوتا ہےگویا فقیر محمد
- منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوںاک پردہ نشیں کا مبتلا ہوںگویا فقیر محمد
- نظارۂ رخ ساقی سے مجھ کو مستی ہےیہ آفتاب پرستی بھی مے پرستی ہےگویا فقیر محمد
- نیم بسمل کی کیا ادا ہے یہعاشقو لوٹنے کی جا ہے یہگویا فقیر محمد
- ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگاہاتھ جو ہوگا تو مری موت کا ساماں ہوگاگویا فقیر محمد
- یہ اک تیرا جلوہ صنم چار سو ہےنظر جس طرف کیجیے تو ہی تو ہےگویا فقیر محمد