Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. خبریوسف ظفر
  2. شکایتیوسف ظفر
  3. سوالییوسف ظفر
  4. رنگ گفتگویوسف ظفر
  5. انار کلییوسف ظفر
  6. وادی نیلیوسف ظفر
  7. قدر و قیمتیوسف ظفر
  8. مینار سکوتیوسف ظفر
  9. کھوئے ہوئے زمانےاحمق پھپھوندوی
  10. مستقبلاحمق پھپھوندوی
  11. دھرم و ایماناحمق پھپھوندوی
  12. فسانۂ عبرتاحمق پھپھوندوی
  13. ملک کی محبتاحمق پھپھوندوی
  14. نعرۂ حقاحمق پھپھوندوی
  15. ہمارا دیساحمق پھپھوندوی
  16. راہ راستاحمق پھپھوندوی
  17. علم کی ضرورتاحمق پھپھوندوی
  18. خدا اس قوم کو عزت نہیں دیتا زمانے میںجسے قومی بزرگوں کا ادب کرنا نہیں آتااحمق پھپھوندوی
  19. بدل دےاحمق پھپھوندوی
  20. پیام آزادیاحمق پھپھوندوی
  21. ہمت مرداںاحمق پھپھوندوی
  22. نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین گلشن میںکہو بلبل سے اب انڈے نہ رکھے آشیانے میںاحمق پھپھوندوی
  23. خدمت وطناحمق پھپھوندوی
  24. احساس غیرتاحمق پھپھوندوی
  25. حصول آزادی کی دقتیںاحمق پھپھوندوی
  26. دعا (احمق پھپھوندوی)احمق پھپھوندوی
  27. ضرورت اتحاداحمق پھپھوندوی
  28. انقلاب (احمق پھپھوندوی)احمق پھپھوندوی
  29. بڑھے چلواحمق پھپھوندوی
  30. اچھے دناحمق پھپھوندوی
  31. اس کو غفلت‌ پیشہ کہہ آتے ہیں ہمبھول جانا یاد دلواتے ہیں ہمگویا فقیر محمد
  32. اس کو مجھ سے رُٹھا دیا کس نےمیرے دل کو دکھا دیا کس نےگویا فقیر محمد
  33. الفت یہ چھپائیں ہم کسی کیدل سے بھی کہیں نہ اپنی جی کیگویا فقیر محمد
  34. بھولا ہے بعد مرگ مجھے دوست یاں تلکسگ بھی نہ اس کا آیا مری استخواں تلکگویا فقیر محمد
  35. تکلم جو کوئی کرتا ہے فانیہماری اور تمہاری ہے کہانیگویا فقیر محمد
  36. جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہےیہ کہیے لن ترانی اب کہاں ہےگویا فقیر محمد
  37. حسرت اے جاں شب جدائی ہےمژدہ اے دل کہ موت آئی ہےگویا فقیر محمد
  38. دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کرہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کرگویا فقیر محمد
  39. قتل عشاق کیا کرتے ہیںبت کہاں خوف خدا کرتے ہیںگویا فقیر محمد
  40. کس قدر مجھ کو ناتوانی ہےبار سر سے بھی سرگرانی ہےگویا فقیر محمد
  41. کس ناز سے واہ ہم کو ماراکی ترچھی نگاہ ہم کو ماراگویا فقیر محمد
  42. کھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پرچھا گئی کالی گھٹا سی آن کر گلزار پرگویا فقیر محمد
  43. کیا ہیں شیدائے قد یار درختہیں جو شبنم سے اشک بار درختگویا فقیر محمد
  44. کیوں کر نہ خوش ہو سر مرا لٹکا کے دار میںکیا پھل لگا ہے نخل تمنائے یار میںگویا فقیر محمد
  45. لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہےآج عیسیٰ سے یہ بیمار جدا ہوتا ہےگویا فقیر محمد
  46. منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوںاک پردہ نشیں کا مبتلا ہوںگویا فقیر محمد
  47. نظارۂ رخ ساقی سے مجھ کو مستی ہےیہ آفتاب پرستی بھی مے پرستی ہےگویا فقیر محمد
  48. نیم بسمل کی کیا ادا ہے یہعاشقو لوٹنے کی جا ہے یہگویا فقیر محمد
  49. ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگاہاتھ جو ہوگا تو مری موت کا ساماں ہوگاگویا فقیر محمد
  50. یہ اک تیرا جلوہ صنم چار سو ہےنظر جس طرف کیجیے تو ہی تو ہےگویا فقیر محمد