Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جو شجر بے لباس رہتے ہیںان کے سائے اداس رہتے ہیںTahir Faraz
  2. خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوںاک ورق روز موڑ دیتا ہوںTahir Faraz
  3. درد خاموش رہا ٹوٹتی آواز رہیمیری ہر شام تری یاد کی ہم راز رہیTahir Faraz
  4. ذرا سی بات پہ کٹتے ہیں سر ہماری طرفبھلا اسی میں ہے تو رخ نہ کر ہماری طرفTahir Faraz
  5. عجیب ہم ہیں سبب کے بغیر چاہتے ہیںتمہیں تمہاری طلب کے بغیر چاہتے ہیںTahir Faraz
  6. غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آ گیاغم یہ ہے قاتلوں میں ترا نام آ گیاTahir Faraz
  7. کاش ایسا کوئی منظر ہوتامیرے کاندھے پہ ترا سر ہوتاTahir Faraz
  8. کوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گامجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہو جائے گاTahir Faraz
  9. کہیں خلوص کی خوشبو ملے تو رک جاؤںمرے لیے کوئی آنسو کھلے تو رک جاؤںTahir Faraz
  10. کیسے مانوں کہ زمانے کی خبر رکھتی ہےگردش وقت تو بس مجھ پہ نظر رکھتی ہےTahir Faraz
  11. گوشے بدل بدل کے ہر اک رات کاٹ دیکچے مکاں میں اب کے بھی برسات کاٹ دیTahir Faraz
  12. مری منزلیں کہیں اور ہیں مرا راستہ کوئی اور ہےہٹو راہ سے مری خضر جی مرا رہنما کوئی اور ہےTahir Faraz
  13. مرے لبوں پہ اسی آدمی کی پیاس نہ ہوجو چاہتا ہے مرے سامنے گلاس نہ ہوTahir Faraz
  14. میرے آنسو تری آنکھوں سے اگر مل جائیںجتنے مرجھائے ہوئے پھول ہیں سب کھل جائیںTahir Faraz
  15. میں نہ کہتا تھا کہ شہروں میں نہ جا یار مرےسوندھی مٹی ہی میں ہوتی ہے وفا یار مرےTahir Faraz
  16. وقت کرتا ہے خودکشی مجھ میںلمحہ لمحہ ہے زندگی مجھ میںTahir Faraz
  17. بہت خوبصورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمکبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سےTahir Faraz
  18. آدمی ہوں وصف پیغمبر نہ مانگمجھ سے میرے دوست میرا سر نہ مانگTahir Faraz
  19. جن کو نیندوں کی نہ ہو چادر نصیبان سے خوابوں کا حسیں بستر نہ مانگTahir Faraz
  20. عمر بھر کو مجھے بے صدا کر گیاتیرا اک بار منہ پھیر کر بولناTahir Faraz
  21. مرے ہنر کا اسے بھی نہ تھا کچھ اندازہملال یہ ہے اسے دوسری شکست ہوئیTahir Faraz
  22. آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگااس بہار نو شگفتہ کا ثمر کیسا لگاBaharunnisa Bahar
  23. اک شخص پر وقار تھا جانے کدھر گیاآنکھوں کا جو خمار تھا جانے کدھر گیاBaharunnisa Bahar
  24. امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنایوں مجھ پہ ستم اے دل سفاک نہ کرناBaharunnisa Bahar
  25. بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیںہو گئی شاعری کاپیاں کھل گئیںBaharunnisa Bahar
  26. بھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گیبہت روئی ہیں یہ آنکھیں نظر کیسے ملاؤں گیBaharunnisa Bahar
  27. تو مرے عکس تصور سے جدا لگتا نہیںفاصلے جو درمیاں ہے فاصلہ لگتا نہیںBaharunnisa Bahar
  28. جی رہے ہیں اس جہاں میں ایک لاشے کی طرحلوگ ہم کو دیکھتے ہیں اب تماشے کی طرحBaharunnisa Bahar
  29. لگ رہا ہے آج میرے دل میں ایسا شور ہےہر طرف بادل ہیں کالے اور برپا شور ہےBaharunnisa Bahar
  30. منزل مہر و وفا کی رہنمائی ہو گئیجب ملی تم سے تو خود سے آشنائی ہو گئیBaharunnisa Bahar
  31. نقش پا جب ڈھونڈھتی ہوں میں تمہارا ریت پریاد کی کچھ سیپیاں ہیں اب سہارا ریت پرBaharunnisa Bahar
  32. ہجوم یاس نے گھیرا تو کیسے مسکراؤ گےجو ابر اشک آ برسا کہاں اس کو چھپاؤ گےBaharunnisa Bahar
  33. اکیلے منظروں سےاور ان پیاسی رتوں سےBaharunnisa Bahar
  34. بتاؤ جان جاں میرےکہ گھر کب لوٹ آؤ گےBaharunnisa Bahar
  35. جو اکثر سوچتی ہوں میںبتا کیا تو بھی وہ سوچےBaharunnisa Bahar
  36. جینے کے سامان عجبپیار کے ہیں ارمان عجبBaharunnisa Bahar
  37. حرف نگر میں جھانکوں جبسوچ دھمال کے منظر ہیںBaharunnisa Bahar
  38. سن اے مرے سخنورتو سچ کا سمندرBaharunnisa Bahar
  39. میں قیدی تتلی ہوں تیریسب رنگ بہار کے ہیں تجھ سےBaharunnisa Bahar
  40. ہر سال نو کو مل کےیہ رسم ہے بنائیBaharunnisa Bahar
  41. ہو یخ بستہ موسمسلگتا ہوا منBaharunnisa Bahar
  42. اشک کے ابر رواں میں ڈھونڈھتی ہوں میں تجھےآس کی ان تتلیوں کو بھی ٹھکانا چاہئےBaharunnisa Bahar
  43. گھائل وجود سوچ کی بیساکھیاں لئےملنے چلا ہے گزرے ہوئے ماہ و سال سےBaharunnisa Bahar
  44. منجمد ہو زندگی میں جب کبھی شہر خیالپھر چراغ دل سے اس کو جگمگانا چاہئےBaharunnisa Bahar
  45. ویران زندگی کے یہ لمحے عجیب ہیںبزم طرب میں دھوم ہے فرقت دھمال سےBaharunnisa Bahar
  46. ہوا ہے ریت ہے دشت وفا ہےرتوں کو آتا جاتا دیکھتی ہوںBaharunnisa Bahar
  47. آئیں گے گر انہیں غیرت ہوگیوہ نہ آئے تو قیامت ہوگیبیان میرٹھی
  48. اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گامیں گریبان سے پہلے ہی نکل جاؤں گابیان میرٹھی
  49. بدلنے رنگ سکھلائے جہاں کوکہوں کیا سرمہ کو وسمہ کو پاں کوبیان میرٹھی
  50. چراغ حسن ہے روشن کسی کاہمارا خون ہے روغن کسی کابیان میرٹھی