Poetry
Poet
Meter
- جو شجر بے لباس رہتے ہیںان کے سائے اداس رہتے ہیںTahir Faraz
- خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوںاک ورق روز موڑ دیتا ہوںTahir Faraz
- درد خاموش رہا ٹوٹتی آواز رہیمیری ہر شام تری یاد کی ہم راز رہیTahir Faraz
- ذرا سی بات پہ کٹتے ہیں سر ہماری طرفبھلا اسی میں ہے تو رخ نہ کر ہماری طرفTahir Faraz
- عجیب ہم ہیں سبب کے بغیر چاہتے ہیںتمہیں تمہاری طلب کے بغیر چاہتے ہیںTahir Faraz
- غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آ گیاغم یہ ہے قاتلوں میں ترا نام آ گیاTahir Faraz
- کاش ایسا کوئی منظر ہوتامیرے کاندھے پہ ترا سر ہوتاTahir Faraz
- کوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گامجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہو جائے گاTahir Faraz
- کہیں خلوص کی خوشبو ملے تو رک جاؤںمرے لیے کوئی آنسو کھلے تو رک جاؤںTahir Faraz
- کیسے مانوں کہ زمانے کی خبر رکھتی ہےگردش وقت تو بس مجھ پہ نظر رکھتی ہےTahir Faraz
- گوشے بدل بدل کے ہر اک رات کاٹ دیکچے مکاں میں اب کے بھی برسات کاٹ دیTahir Faraz
- مری منزلیں کہیں اور ہیں مرا راستہ کوئی اور ہےہٹو راہ سے مری خضر جی مرا رہنما کوئی اور ہےTahir Faraz
- مرے لبوں پہ اسی آدمی کی پیاس نہ ہوجو چاہتا ہے مرے سامنے گلاس نہ ہوTahir Faraz
- میرے آنسو تری آنکھوں سے اگر مل جائیںجتنے مرجھائے ہوئے پھول ہیں سب کھل جائیںTahir Faraz
- میں نہ کہتا تھا کہ شہروں میں نہ جا یار مرےسوندھی مٹی ہی میں ہوتی ہے وفا یار مرےTahir Faraz
- وقت کرتا ہے خودکشی مجھ میںلمحہ لمحہ ہے زندگی مجھ میںTahir Faraz
- بہت خوبصورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمکبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سےTahir Faraz
- آدمی ہوں وصف پیغمبر نہ مانگمجھ سے میرے دوست میرا سر نہ مانگTahir Faraz
- جن کو نیندوں کی نہ ہو چادر نصیبان سے خوابوں کا حسیں بستر نہ مانگTahir Faraz
- عمر بھر کو مجھے بے صدا کر گیاتیرا اک بار منہ پھیر کر بولناTahir Faraz
- مرے ہنر کا اسے بھی نہ تھا کچھ اندازہملال یہ ہے اسے دوسری شکست ہوئیTahir Faraz
- آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگااس بہار نو شگفتہ کا ثمر کیسا لگاBaharunnisa Bahar
- اک شخص پر وقار تھا جانے کدھر گیاآنکھوں کا جو خمار تھا جانے کدھر گیاBaharunnisa Bahar
- امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنایوں مجھ پہ ستم اے دل سفاک نہ کرناBaharunnisa Bahar
- بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیںہو گئی شاعری کاپیاں کھل گئیںBaharunnisa Bahar
- بھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گیبہت روئی ہیں یہ آنکھیں نظر کیسے ملاؤں گیBaharunnisa Bahar
- تو مرے عکس تصور سے جدا لگتا نہیںفاصلے جو درمیاں ہے فاصلہ لگتا نہیںBaharunnisa Bahar
- جی رہے ہیں اس جہاں میں ایک لاشے کی طرحلوگ ہم کو دیکھتے ہیں اب تماشے کی طرحBaharunnisa Bahar
- لگ رہا ہے آج میرے دل میں ایسا شور ہےہر طرف بادل ہیں کالے اور برپا شور ہےBaharunnisa Bahar
- منزل مہر و وفا کی رہنمائی ہو گئیجب ملی تم سے تو خود سے آشنائی ہو گئیBaharunnisa Bahar
- نقش پا جب ڈھونڈھتی ہوں میں تمہارا ریت پریاد کی کچھ سیپیاں ہیں اب سہارا ریت پرBaharunnisa Bahar
- ہجوم یاس نے گھیرا تو کیسے مسکراؤ گےجو ابر اشک آ برسا کہاں اس کو چھپاؤ گےBaharunnisa Bahar
- اکیلے منظروں سےاور ان پیاسی رتوں سےBaharunnisa Bahar
- بتاؤ جان جاں میرےکہ گھر کب لوٹ آؤ گےBaharunnisa Bahar
- جو اکثر سوچتی ہوں میںبتا کیا تو بھی وہ سوچےBaharunnisa Bahar
- جینے کے سامان عجبپیار کے ہیں ارمان عجبBaharunnisa Bahar
- حرف نگر میں جھانکوں جبسوچ دھمال کے منظر ہیںBaharunnisa Bahar
- سن اے مرے سخنورتو سچ کا سمندرBaharunnisa Bahar
- میں قیدی تتلی ہوں تیریسب رنگ بہار کے ہیں تجھ سےBaharunnisa Bahar
- ہر سال نو کو مل کےیہ رسم ہے بنائیBaharunnisa Bahar
- ہو یخ بستہ موسمسلگتا ہوا منBaharunnisa Bahar
- اشک کے ابر رواں میں ڈھونڈھتی ہوں میں تجھےآس کی ان تتلیوں کو بھی ٹھکانا چاہئےBaharunnisa Bahar
- گھائل وجود سوچ کی بیساکھیاں لئےملنے چلا ہے گزرے ہوئے ماہ و سال سےBaharunnisa Bahar
- منجمد ہو زندگی میں جب کبھی شہر خیالپھر چراغ دل سے اس کو جگمگانا چاہئےBaharunnisa Bahar
- ویران زندگی کے یہ لمحے عجیب ہیںبزم طرب میں دھوم ہے فرقت دھمال سےBaharunnisa Bahar
- ہوا ہے ریت ہے دشت وفا ہےرتوں کو آتا جاتا دیکھتی ہوںBaharunnisa Bahar
- آئیں گے گر انہیں غیرت ہوگیوہ نہ آئے تو قیامت ہوگیبیان میرٹھی
- اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گامیں گریبان سے پہلے ہی نکل جاؤں گابیان میرٹھی
- بدلنے رنگ سکھلائے جہاں کوکہوں کیا سرمہ کو وسمہ کو پاں کوبیان میرٹھی
- چراغ حسن ہے روشن کسی کاہمارا خون ہے روغن کسی کابیان میرٹھی