مرے لبوں پہ اسی آدمی کی پیاس نہ ہو

Tahir Faraz

مرے لبوں پہ اسی آدمی کی پیاس نہ ہو

جو چاہتا ہے مرے سامنے گلاس نہ ہو

یہ تشنگی تو ملی ہے ہمیں وراثت میں

ہمارے واسطے دریا کوئی اداس نہ ہو

تمام دن کے دکھوں کا حساب کرنا ہے

میں چاہتا ہوں کوئی میرے آس پاس نہ ہو

مجھے بھی دکھ ہے خطا ہو گیا نشانہ ترا

کمان کھینچ میں حاضر ہوں تو اداس نہ ہو

جہاں میں کوئی ایسا بھی بے اساس نہ ہو