گوشے بدل بدل کے ہر اک رات کاٹ دی

Tahir Faraz

گوشے بدل بدل کے ہر اک رات کاٹ دی

کچے مکاں میں اب کے بھی برسات کاٹ دی

وہ سر بھی کاٹ دیتا تو ہوتا نہ کچھ ملال

افسوس یہ ہے اس نے مری بات کاٹ دی

دل بھی لہولہان ہے آنکھیں بھی ہیں اداس

شاید انا نے شہ رگ جذبات کاٹ دی

جب بھی ہمیں چراغ میسر نہ آ سکا

سورج کے ذکر سے شب‌ ظلمات کاٹ دی

جادوگری کا کھیل ادھورا ہی رہ گیا

درویش نے شبیۂ طلسمات کاٹ دی

حالانکہ ہم ملے تھے بڑی مدتوں کے بعد

اوقات کی کمی نے ملاقات کاٹ دی

ٹھنڈی ہوائیں مہکی فضا نرم چاندنی

شب تو بس ایک تھی جو ترے سات کاٹ دی