جو شجر بے لباس رہتے ہیں

Tahir Faraz

جو شجر بے لباس رہتے ہیں

ان کے سائے اداس رہتے ہیں

چند لمحات کی خوشی کے لیے

لوگ برسوں اداس رہتے ہیں

اتفاقاً جو ہنس لیے تھے کبھی

انتقاماً اداس رہتے ہیں

میری پلکیں ہیں اور اشک ترے

پیڑ دریا کے پاس رہتے ہیں

ان کے بارے میں سوچئے طاہرؔ

جو مسلسل اداس رہتے ہیں