اک شخص پر وقار تھا جانے کدھر گیا

Baharunnisa Bahar

اک شخص پر وقار تھا جانے کدھر گیا

آنکھوں کا جو خمار تھا جانے کدھر گیا

دونوں جہاں کی وسعتیں تھیں جس کی ذات میں

انمول شاہکار تھا جانے کدھر گیا

ترک تعلقات کا خدشہ سدا رہا

وہ جس پہ اعتبار تھا جانے کدھر گیا

احساس کا یہ حسن بھی بخشش اسی کی ہے

میری انا تھا پیار تھا جانے کدھر گیا

اس کا وجود ہی مری کل کائنات تھا

دل کا مرے قرار تھا جانے کدھر گیا

گیسو جو کھولے رات نے آنکھیں دیا بنیں

جو رونق بہارؔ تھا جانے کدھر گیا