کہیں خلوص کی خوشبو ملے تو رک جاؤں

Tahir Faraz

کہیں خلوص کی خوشبو ملے تو رک جاؤں

مرے لیے کوئی آنسو کھلے تو رک جاؤں

میں اس کے سائے میں یوں تو ٹھہر نہیں سکتا

اداس پیڑ کا پتا ہلے تو رک جاؤں

کبھی پلک پہ ستارے کبھی لبوں پہ گلاب

اگر نہ ختم ہوں یہ سلسلے تو رک جاؤں

وہ ایک ربط جو اتنا بڑھا کہ ٹوٹ گیا

سمٹ کے جوڑ دے یہ فاصلے تو رک جاؤں

بہت طویل اندھیروں کا ہے سفر طاہرؔ

کہیں جو دھوپ کا سایہ ملے تو رک جاؤں