کیسے مانوں کہ زمانے کی خبر رکھتی ہے

Tahir Faraz

کیسے مانوں کہ زمانے کی خبر رکھتی ہے

گردش وقت تو بس مجھ پہ نظر رکھتی ہے

میرے پیروں کی تھکن روٹھ نہ جانا مجھ سے

ایک تو ہی تو مرا راز سفر رکھتی ہے

دھوپ مجھ کو جو لیے پھرتی ہے سائے سائے

ہے تو آوارہ مگر ذہن میں گھر رکھتی ہے

دوستی تیرے درختوں میں ہوائیں بھی نہیں

دشمنی اپنے درختوں میں ثمر رکھتی ہے

جانے کیا سوچ کے رو لیتا ہوں اس وقت فرازؔ

زندگی جب مرے آغوش میں سر رکھتی ہے