میرے آنسو تری آنکھوں سے اگر مل جائیں

Tahir Faraz

میرے آنسو تری آنکھوں سے اگر مل جائیں

جتنے مرجھائے ہوئے پھول ہیں سب کھل جائیں

سانس لینا مجھے آسان بھی ہو سکتا ہے

ٹہنیاں پیڑ کی دھیرے سے اگر ہل جائیں

ایک اک کر کے سبھی بستیاں ویران ہوئیں

قتل کرنے کے لیے اب کہاں قاتل جائیں

ڈھونڈھتی رہتی ہیں ہر وقت یہ آنکھیں اس کو

کسی بازار سے گزریں کسی محفل جائیں

خامشی اتنی بھی اچھی نہیں ہوتی طاہرؔ

مجھ کو ڈر ہے نہ کہیں ہونٹ ترے سل جائیں