عجیب ہم ہیں سبب کے بغیر چاہتے ہیں
Tahir Farazعجیب ہم ہیں سبب کے بغیر چاہتے ہیں
تمہیں تمہاری طلب کے بغیر چاہتے ہیں
فقیر وہ ہیں جو اللہ تیرے بندوں کو
ہر امتیاز نسب کے بغیر چاہتے ہیں
مزا تو یہ ہے انہیں بھی نوازتا ہے رب
جو اس جہان کو رب کے بغیر چاہتے ہیں
نہیں ہے کھیل کوئی ان سے گفتگو کرنا
سخن وہ جنبش لب کے بغیر چاہتے ہیں
ٹھٹھرتی رات میں چادر بھی جن کے پاس نہیں
وہ دن نکالنا شب کے بغیر چاہتے ہیں
جمی ہے گرد سیاست کی جن کے ذہنوں پر
مشاعرہ بھی ادب کے بغیر چاہتے ہیں
ہے اعتماد انہیں خود پر غرور کی حد تک
اکیلے جینا جو سب کے بغیر چاہتے ہیں