سن اے مرے سخنور

Baharunnisa Bahar

سن اے مرے سخنور

تو سچ کا سمندر

موجوں میں تیری پنہاں

ہیں سیپیاں خوشی کی

پاتی ہوں زندگی بھی

تو آس کا ہے آنچل

تو پیار کا ہے بادل

پھر بھی نہ جانے کیوں میں

اکثر یہ سوچتی ہوں

یہ دل نہ توڑ دے تو

محفل نہ چھوڑ دے تو

ہاں اے مرے سخنور

اے سوچ کے سمندر