وقت کرتا ہے خودکشی مجھ میں

Tahir Faraz

وقت کرتا ہے خودکشی مجھ میں

لمحہ لمحہ ہے زندگی مجھ میں

سونے والی سماعتو جاگو

خامشی بولنے لگی مجھ میں

شکریہ اے جلانے والے تیرا

دور تک اب ہے روشنی مجھ میں

روز اپنا ہی خون پیتا ہوں

ایسی کب تھی درندگی مجھ میں

اس نئے دور میں نہ کھو جائے

یہ جو باقی ہے سادگی مجھ میں

شعر میرا تھا داد اس کو ملی

شخصیت کی کمی جو تھی مجھ میں

جانتا ہوں میں اپنے قاتل کو

روز کرتا ہے خودکشی مجھ میں

شعر کہنا نہیں ہے سہل فرازؔ

یہ ودیعت ہے قدرتی مجھ میں