خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں

Tahir Faraz

خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں

اک ورق روز موڑ دیتا ہوں

اس قدر زخم ہیں نگاہوں میں

روز اک آئینہ توڑ دیتا ہوں

میں پجاری برستے پھولوں کا

چھو کے شاخوں کو چھوڑ دیتا ہوں

تجھ سے رشتہ ہے ریشمی رشتہ

کچے دھاگے میں توڑ دیتا ہوں

کاسۂ شب میں خون سورج کا

قطرہ قطرہ نچوڑ دیتا ہوں

کانپتے ہونٹ بھیگتی پلکیں

بات ادھوری ہی چھوڑ دیتا ہوں

ریت کے گھر بنا بنا کے فرازؔ

جانے کیوں خود ہی توڑ دیتا ہوں