درد خاموش رہا ٹوٹتی آواز رہی
Tahir Farazدرد خاموش رہا ٹوٹتی آواز رہی
میری ہر شام تری یاد کی ہم راز رہی
شہر میں جب بھی چلے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے
تپتے صحرا کی طبیعت بڑی ناساز رہی
آئنے ٹوٹ گئے عکس کی سچائی پر
اور سچائی ہمیشہ کی طرح راز رہی
اک نئے موڑ پہ اس نے بھی مجھے چھوڑ دیا
جس کی آواز میں شامل مری آواز رہی
سنتا رہتا ہوں بزرگوں سے میں اکثر طاہرؔ
وہ سماعت ہی رہی اور نہ وہ آواز رہی