منزل مہر و وفا کی رہنمائی ہو گئی

Baharunnisa Bahar

منزل مہر و وفا کی رہنمائی ہو گئی

جب ملی تم سے تو خود سے آشنائی ہو گئی

سامنے دل آ گیا تو سارے منظر جل اٹھے

آئنہ خانے میں رسم خود نمائی ہو گئی

میں عروج بندگی کو نام دے دوں گی اگر

ان کے در تک میرے سجدوں کی رسائی ہو گئی

ایک لمحے کے لئے گم ہو اگر ان کا خیال

میں یہ سمجھوں گی کہ مجھ سے بے وفائی ہو گئی

زعم زاہد کو بہت تھا پارسائی پر مگر

اک اشارے سے شکست پارسائی ہو گئی

ظلم بھی اس نے کیا اور بن گیا مظلوم بھی

کیا گواہ اس شخص کی ساری خدائی ہو گئی

اک ملن رت آئی تھی میرے لئے لیکن بہارؔ

اس فضا میں دفعتاً شام جدائی ہو گئی