بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیں

Baharunnisa Bahar

بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیں

ہو گئی شاعری کاپیاں کھل گئیں

ساحل دل پہ ارماں کی کشتی چلی

یوں تلاطم اٹھا رسیاں کھل گئیں

شعر و نغمے کی محفل جہاں بھی سجی

موسم حبس کی مٹھیاں کھل گئیں

آنکھ میچے ہی پہچانا میں نے تجھے

پھر گلابوں سی دو پتیاں کھل گئیں

تجھ کو دیکھا لگا صبح نو ہو گئی

الجھنوں سے بنی گتھیاں کھل گئیں

موسم دل پہ جب سے بہارؔ آ گئی

آرزؤں بھری تتلیاں کھل گئیں