آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگا

Baharunnisa Bahar

آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگا

اس بہار نو شگفتہ کا ثمر کیسا لگا

میں نہ کہتی تھی اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں

آپ نے دیکھا مرا ویران گھر کیسا لگا

میں نے اک بت کو تراشا ہے زمانے کے لئے

اے ہنر مندو مرا کار ہنر کیسا لگا

ظلمتوں کے ساتھ تو تم نے نبھایا عمر بھر

شب گزیدہ لوگو انداز سحر کیسا لگا

کیسا منظر ہے کہ ہے گل پوش دنیا کا دروغ

زندگی کا سچ مقام دار پر کیسا لگا

یہ بتاؤ لوٹ کر آ ہی گئے ہو تم اگر

زیست کے بے نام شہروں کا سفر کیسا لگا

میں نے دروازہ تری خاطر کیا تھا وا بہارؔ

تو بتا دے تجھ کو الفت کا نگر کیسا لگا