مری منزلیں کہیں اور ہیں مرا راستہ کوئی اور ہے

Tahir Faraz

مری منزلیں کہیں اور ہیں مرا راستہ کوئی اور ہے

ہٹو راہ سے مری خضر جی مرا رہنما کوئی اور ہے

یہ عجیب منطق عشق ہے مگر اس میں کچھ بھی نہ بن پڑے

مرے دل میں یاد کسی کی ہے مجھے بھولتا کوئی اور ہے

مری جنبشیں مری لغزشیں مرے بس میں ہوں گی نہ تھیں نہ ہیں

میں قیام کرتا ہوں ذہن میں مجھے سوچتا کوئی اور ہے

ترے حسن تیرے جمال کا میں دوانہ یوں ہی نہیں ہوا

ہے مجھے خبر ترے روپ میں یہ چھپا ہوا کوئی اور ہے

نہیں مجھ کو تجھ سے کوئی گلہ ہے الگ طرح مرا سلسلہ

کہ ترے خدا کئی اور ہیں تو مرا خدا کوئی اور ہے