ذرا سی بات پہ کٹتے ہیں سر ہماری طرف
Tahir Farazذرا سی بات پہ کٹتے ہیں سر ہماری طرف
بھلا اسی میں ہے تو رخ نہ کر ہماری طرف
نئے سماج کی تعمیر کھا گئی ان کو
بنے ہوئے تھے جو چھپر کے گھر ہماری طرف
پرانے عہد کے قصے سناتا رہتا ہے
بچا ہوا ہے جو بوڑھا شجر ہماری طرف
کنی وہ چاٹ کے ہیرے کی ہو گیا پتھر
جب آ گیا کوئی آئینہ گر ہماری طرف
نہ بات سمجھیں نہ لہجے کا درد پہچانیں
ہیں اس نظر کے بھی اہل نظر ہماری طرف