Poetry
Poet
Meter
- خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقصہر دو عالم کو ترا رکھتا ہے بے آرام رقصبیان میرٹھی
- خوں بہانے کے ہیں ہزار طریقرنگ لانے کے ہیں ہزار طریقبیان میرٹھی
- سر شوریدہ پائے دشت پیما شام ہجراں تھاکبھی گھر تھا بیاباں میں کبھی گھر میں بیاباں تھابیان میرٹھی
- غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغصورت ابرو ہمارے سر چڑھی جاتی ہے تیغبیان میرٹھی
- فلک نے ابر مرے سینہ کا بخار کیامجھے مجھی پہ ستم گر نے اشک بار کیابیان میرٹھی
- کھلا ہے جلوۂ پنہاں سے از بس چاک وحشت کامیں ڈرتا ہوں کہیں پردہ نہ پھٹ جائے حقیقت کابیان میرٹھی
- لہو ٹپکا کسی کی آرزو سےہماری آرزو ٹپکی لہو سےبیان میرٹھی
- مثل حباب بحر نہ اتنا اچھل کے چلہیں ساتھ ساتھ موج حوادث سنبھل کے چلبیان میرٹھی
- وہ دریا بار اشکوں کی جھڑی ہےکہ حوت آسماں تہہ میں پڑی ہےبیان میرٹھی
- جو مکتب ایجاد میں داخل ہوگااوج اس کو فروتنی سے حاصل ہوگابیان میرٹھی
- آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہےہم سنگ فلاخن پئے زر پھرتا ہےبیان میرٹھی
- اسرار جہاں لطیفۂ غیبی ہیںسب عالم تحت و فوق ترکیبی ہیںبیان میرٹھی
- افلاس میں کیوں ٹیکس لگا رکھا ہےاسٹام کے جال میں پھنسا رکھا ہےبیان میرٹھی
- بیدار نہیں کوئی جہاں خواب میں ہےنیرنگ عجب عالم اسباب میں ہےبیان میرٹھی
- پیری کی سپیدی ہے کہ مرتا ہوں میںجوں شمع دم صبح گزرتا ہوں میںبیان میرٹھی
- سچ ہے کہ جہاں میں سیر کیا کیا دیکھیمشرق کی طرف برق تجلی دیکھیبیان میرٹھی
- کب کوئی فضول ہاتھ ملتا ہے بھلامطلب کہیں اس طرح نکلتا ہے بھلابیان میرٹھی
- گرمی امسال کس قیامت کی پڑیایک ایک گھڑی ہوئی قیامت کی گھڑیبیان میرٹھی
- ہاں جہل تمہیں سے رنگ لایا پھر کیوںلایا تو گلا زباں پر آیا پھر کیوںبیان میرٹھی
- صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوںآئے وہ در سے ناگہاں کھولے ہوئے قبا کہ یوںبیان میرٹھی
- یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کرجو اے مسیحا تو ہے مسیحا تو کچھ مرے درد کی دوا کربیان میرٹھی
- آتش عشق سوں جو جلتا ہےوہ سدا مثل شمع گلتا ہےداؤد اورنگ آبادی
- آج بدلی ہے ہوا ساقی پلا جام شراببرس کالی وعدہ جاتے ہیں برس کالے سحابداؤد اورنگ آبادی
- اس شکر لب کا میں خیالی ہوںاس سبب شکریں مقالی ہوںداؤد اورنگ آبادی
- اگر وہ گلبدن مجھ پاس ہو جاوے تو کیا ہووےزمین دل میں تخم عشق بو جاوے تو کیا ہووےداؤد اورنگ آبادی
- تیری انکھیاں کے تصور میں سدا مستانہ ہوںدیکھ کر زنجیر تیرے زلف کی دیوانہ ہوںداؤد اورنگ آبادی
- جب پری رو حجاب کرتے ہیںدل کے درپن کوں آب کرتے ہیںداؤد اورنگ آبادی
- جب ملا یار تو اغیار ستی کیا مطلبگل میسر ہوا تب خار ستی کیا مطلبداؤد اورنگ آبادی
- جب وہ مہ رخسار یکایک نظر آیااس ماہ کی طلعت سوں سورج دل میں در آیاداؤد اورنگ آبادی
- جگ ہے مشتاق پیو کے درشن کاکس کوں نیں احتیاج درپن کاداؤد اورنگ آبادی
- حسن اس شمع رو کا ہے گل رنگکیوں نہ بلبل جلے مثال پتنگداؤد اورنگ آبادی
- خرقہ پوشی میں خود نمائی ہےہاتھ بس کاسۂ گدائی ہےداؤد اورنگ آبادی
- درپن دیا ہوں دل کا میں اس دل ربا کے ہاتھدرپن میں وہ پیا ہے وہ درپن پیا کے ہاتھداؤد اورنگ آبادی
- دل بر کوں عتاب خوب ہے خوبعشاق کوں تاب خوب ہے خوبداؤد اورنگ آبادی
- دل کوں دل دار کے نیاز کرےتن کوں آرام و سکھ سوں باز کرےداؤد اورنگ آبادی
- دل میں خیال یار ہے جاسوس کی نمطرکھتا ہوں اس کوں ننگ سوں ناموس کی نمطداؤد اورنگ آبادی
- دیکھ لٹکا سجن تیری لٹ کااس کی ہر مو بہ مو میں دل اٹکاداؤد اورنگ آبادی
- سینہ صافی سوں مثل درپن کرشمع فانوس دل کی روشن کرداؤد اورنگ آبادی
- عشق نے تجھ خال کے مجھ کوں خیالی کیادل کوں خیالات سوں غیر کے خالی کیاداؤد اورنگ آبادی
- فریاد صدائے نفس آواز جرس ہےکیا قافلۂ عمر کوں چلنے کا ہوس ہےداؤد اورنگ آبادی
- گلشن جگ میں ذرا رنگ محبت نیں ہےبلبل دل کوں کسی ساتھ اب الفت نیں ہےداؤد اورنگ آبادی
- لے دام نگاہ یار آیاکرنے کوں مجھے شکار آیاداؤد اورنگ آبادی
- مجھ ساتھ سیر باغ کوں اے نوبہار چلبلبل ہے انتظار میں اے گل عذار چلداؤد اورنگ آبادی
- مرا احوال چشم یار سوں پوچھحقیقت درد کی بیمار سوں پوچھداؤد اورنگ آبادی
- مست ہوں مست ہوں خراب خرابساقیا ساقیا شراب شرابداؤد اورنگ آبادی
- نگاہ یار سوں حاصل ہے مجھ کوں مے نوشیلب خموش نے بخشا ہے اس کے خاموشیداؤد اورنگ آبادی
- آ گیا جس کو بھی احساس کی وحشت پڑھنااس نے سیکھا ہی نہیں لفظ محبت پڑھناEhtisham ul Haq Siddiqui
- اپنے شب یاروں سے کس طرح میں غافل ہو جاؤںآسماں جاگ رہا ہے تو میں کیسے سو جاؤںEhtisham ul Haq Siddiqui
- اور اب عقل کا بار نہیں گر سہ سکتے ہودل کے اس پاگل خانے میں رہ سکتے ہوEhtisham ul Haq Siddiqui
- ایک بجا ہے رات کا اب تو سونے دوموبائل بھی گرم ہے ٹھنڈا ہونے دوEhtisham ul Haq Siddiqui