کاش ایسا کوئی منظر ہوتا

Tahir Faraz

کاش ایسا کوئی منظر ہوتا

میرے کاندھے پہ ترا سر ہوتا

جمع کرتا جو میں آئے ہوئے سنگ

سر چھپانے کے لئے گھر ہوتا

اس بلندی پہ بہت تنہا ہوں

کاش میں سب کے برابر ہوتا

اس نے الجھا دیا دنیا میں مجھے

ورنہ ایک اور قلندر ہوتا

وہ جو ٹھوکر نہ لگاتے مجھ کو

میں کسی راہ کا پتھر ہوتا