جو اکثر سوچتی ہوں میں
Baharunnisa Baharجو اکثر سوچتی ہوں میں
بتا کیا تو بھی وہ سوچے
مری آنکھوں کی تحریریں
اگر اے کاش تو پڑھ لے
تو پھر یہ جان لے گا تو
کہ جب سے تجھ کو دیکھا ہے
دھنک رنگوں کی اک تتلی
مرے من میں سمائی ہے
مہک سندیسہ لائی ہے
یہ سب میں نے سنا تو پھر
مجھے محسوس ہوتا ہے
کہ میں بھی ایک تتلی ہوں
یہ دل میرا گلستاں ہے
تو ہی تو میرا ارماں ہے
بسوں تیرے خیالوں میں
رہوں تیری نگاہوں میں
لئے بانہوں میں ہم بانہیں
وفا کے گیت بھی گائیں
ترا دل ہو مرا گھر ہو
ترا شانہ مرا سر ہو
مگر میں دیکھتی ہوں کہ
ہے سوچوں کا بھنور آگے
کئی اندیشے پھر جاگے
اچانک پھر ہوا یہ کہ
عجب سپنا دکھائی دے
نہ تو اپنا دکھائی دے