امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنا
Baharunnisa Baharامید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنا
یوں مجھ پہ ستم اے دل سفاک نہ کرنا
تاریکئ شب ہے مرا پہلے سے مقدر
اور تم بھی اندھیرے مری املاک نہ کرنا
یہ زخم انا کافی ہے اے یوسف دوراں
اب چشم زلیخا کو تو نمناک نہ کرنا
جب نیندیں بچھڑ جائیں تو آ جاتی ہیں یادیں
اس خواب نگر کو پس افلاک نہ کرنا
بیٹھی ہوں امیدوں پہ بہارؔ آئے گی شاید
یوں آس جزیرے کو تہ خاک نہ کرنا