Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ناتوانی میں پلک کو بھی ہلایا نہ گیادیکھ کے ان کو اشارے سے بلایا نہ گیازین العابدین خاں عارف
  2. نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتامجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتازین العابدین خاں عارف
  3. نہ پردہ کھولیو اے عشق غم میں تو میراکہیں نہ سامنے ان کے ہو زرد رو میرازین العابدین خاں عارف
  4. وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کرہم بھاگتے تھے زلف گرہ گیر دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
  5. ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتالیکن ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتازین العابدین خاں عارف
  6. ہر گھڑی چلتی ہے تلوار ترے کوچے میںروز مر رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میںزین العابدین خاں عارف
  7. ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیادر و دیوار کو بھی حال سنانے نہ دیازین العابدین خاں عارف
  8. ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوشکسی معشوق کو دیکھا نہ وفادار سے خوشزین العابدین خاں عارف
  9. ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئےبیٹھے ہیں گھر کو پہلے ہی ویراں کیے ہوئےزین العابدین خاں عارف
  10. یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپدفع ہو دل سے مرے رنج و محن آپ سے آپزین العابدین خاں عارف
  11. آستیں میں سانپ اک پلتا رہاہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہاباقی صدیقی
  12. اپنی دھوپ میں بھی کچھ جلہر سائے کے ساتھ نہ ڈھلباقی صدیقی
  13. اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیاجو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیاباقی صدیقی
  14. اعتبار نظر کریں کیسےہم ہوا میں بسر کریں کیسےباقی صدیقی
  15. ایسا وار پڑا سر کابھول گئے رستہ گھر کاباقی صدیقی
  16. تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیںہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیںباقی صدیقی
  17. تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوںچھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوںباقی صدیقی
  18. جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئےمتاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئےباقی صدیقی
  19. خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میںاداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میںباقی صدیقی
  20. داغ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگےباقی صدیقی
  21. دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہےپہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہےباقی صدیقی
  22. دل سے باہر ہیں خریدار ابھیسامنے ہے بھرا بازار ابھیباقی صدیقی
  23. رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نےعظمت عشق بڑھا دی ہم نےباقی صدیقی
  24. رنگ دل رنگ نظر یاد آیاتیرے جلووں کا اثر یاد آیاباقی صدیقی
  25. کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہواس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہوباقی صدیقی
  26. کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنااور کچھ نشہ چڑھا ہے اپناباقی صدیقی
  27. کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلطگل غلط غنچے غلط خار غلطباقی صدیقی
  28. مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہواتو کہاں آ کے عناں گیر ہواباقی صدیقی
  29. مرحلے زیست کے آسان ہوئےشہر کچھ اور بھی ویران ہوئےباقی صدیقی
  30. وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائےبہت روئے مگر رونے نہ پائےباقی صدیقی
  31. وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہماپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہمباقی صدیقی
  32. وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہیمجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہیباقی صدیقی
  33. ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائےراہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائےباقی صدیقی
  34. ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کےدیکھو ہمیں بام سے اتر کےباقی صدیقی
  35. ہم کہاں آئنہ لے کر آئےلوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئےباقی صدیقی
  36. یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیںاپنی زنجیر ہلا دیتے ہیںباقی صدیقی
  37. ان کا یا اپنا تماشا دیکھوجو دکھاتا ہے زمانہ دیکھوباقی صدیقی
  38. تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیادرخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیاباقی صدیقی
  39. صبح کا بھید ملا کیا ہم کولگ گیا رات کا دھڑکا ہم کوباقی صدیقی
  40. ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلادیکھ رہا ہے ان جانے لوگوں کا ریلاباقی صدیقی
  41. وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیںدل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیںباقی صدیقی
  42. وہ مقام دل و جاں کیا ہوگاتو جہاں آخری پردا ہوگاباقی صدیقی
  43. آیا ہے مگر عشق میں دل دار ہماراہر تن میں ہوا جان ہر اک جسم کا نیاراعلیم اللہ
  44. اب تلک حق نہیں پچھانے واہ واہجان کو اپنی نہ جانے واہ واہعلیم اللہ
  45. اپنے سے بے سمجھ کو حق کی کہاں پچھانت'من عَرَفَ' کو نہ بوجھا 'قد عَرَفَ' سوں جہالتعلیم اللہ
  46. الٰہی بلبل گل زار معنی کر لساں میرابرنگ ابر نیسانی سخن گوہر فشاں میراعلیم اللہ
  47. بحریؔ پچھانے نیں اسے گل کے سو وہ دم ساز تھےچنچل چھبیلے چلبلے مغرور صاحب ناز تھےعلیم اللہ
  48. پیا کے رخ کی جھلک کا پرتو کیا ہے جھلکار آفتابینظر سوں عالم کے ہو رہی ہے مثال خفاش بے حجابیعلیم اللہ
  49. پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چلاپنے پیا کو عشق سوں اپنے رجھائیں چلعلیم اللہ
  50. تو ہے کس منزل میں تیرا بول کھاں ہے دل کا ٹھاردم ترا آتا ہے کھاں سوں بول کھاں جاتا ہے بھارعلیم اللہ