Poetry
Poet
Meter
- ناتوانی میں پلک کو بھی ہلایا نہ گیادیکھ کے ان کو اشارے سے بلایا نہ گیازین العابدین خاں عارف
- نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتامجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتازین العابدین خاں عارف
- نہ پردہ کھولیو اے عشق غم میں تو میراکہیں نہ سامنے ان کے ہو زرد رو میرازین العابدین خاں عارف
- وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کرہم بھاگتے تھے زلف گرہ گیر دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
- ہر چند کہ اب مجھ سے ستم اٹھ نہیں سکتالیکن ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتازین العابدین خاں عارف
- ہر گھڑی چلتی ہے تلوار ترے کوچے میںروز مر رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میںزین العابدین خاں عارف
- ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیادر و دیوار کو بھی حال سنانے نہ دیازین العابدین خاں عارف
- ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوشکسی معشوق کو دیکھا نہ وفادار سے خوشزین العابدین خاں عارف
- ہیں ہم بھی خوب چاہ کا ساماں کیے ہوئےبیٹھے ہیں گھر کو پہلے ہی ویراں کیے ہوئےزین العابدین خاں عارف
- یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپدفع ہو دل سے مرے رنج و محن آپ سے آپزین العابدین خاں عارف
- آستیں میں سانپ اک پلتا رہاہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہاباقی صدیقی
- اپنی دھوپ میں بھی کچھ جلہر سائے کے ساتھ نہ ڈھلباقی صدیقی
- اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیاجو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیاباقی صدیقی
- اعتبار نظر کریں کیسےہم ہوا میں بسر کریں کیسےباقی صدیقی
- ایسا وار پڑا سر کابھول گئے رستہ گھر کاباقی صدیقی
- تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیںہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیںباقی صدیقی
- تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوںچھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوںباقی صدیقی
- جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئےمتاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئےباقی صدیقی
- خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میںاداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میںباقی صدیقی
- داغ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگےباقی صدیقی
- دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہےپہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہےباقی صدیقی
- دل سے باہر ہیں خریدار ابھیسامنے ہے بھرا بازار ابھیباقی صدیقی
- رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نےعظمت عشق بڑھا دی ہم نےباقی صدیقی
- رنگ دل رنگ نظر یاد آیاتیرے جلووں کا اثر یاد آیاباقی صدیقی
- کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہواس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہوباقی صدیقی
- کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنااور کچھ نشہ چڑھا ہے اپناباقی صدیقی
- کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلطگل غلط غنچے غلط خار غلطباقی صدیقی
- مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہواتو کہاں آ کے عناں گیر ہواباقی صدیقی
- مرحلے زیست کے آسان ہوئےشہر کچھ اور بھی ویران ہوئےباقی صدیقی
- وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائےبہت روئے مگر رونے نہ پائےباقی صدیقی
- وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہماپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہمباقی صدیقی
- وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہیمجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہیباقی صدیقی
- ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائےراہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائےباقی صدیقی
- ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کےدیکھو ہمیں بام سے اتر کےباقی صدیقی
- ہم کہاں آئنہ لے کر آئےلوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئےباقی صدیقی
- یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیںاپنی زنجیر ہلا دیتے ہیںباقی صدیقی
- ان کا یا اپنا تماشا دیکھوجو دکھاتا ہے زمانہ دیکھوباقی صدیقی
- تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیادرخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیاباقی صدیقی
- صبح کا بھید ملا کیا ہم کولگ گیا رات کا دھڑکا ہم کوباقی صدیقی
- ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلادیکھ رہا ہے ان جانے لوگوں کا ریلاباقی صدیقی
- وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیںدل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیںباقی صدیقی
- وہ مقام دل و جاں کیا ہوگاتو جہاں آخری پردا ہوگاباقی صدیقی
- آیا ہے مگر عشق میں دل دار ہماراہر تن میں ہوا جان ہر اک جسم کا نیاراعلیم اللہ
- اب تلک حق نہیں پچھانے واہ واہجان کو اپنی نہ جانے واہ واہعلیم اللہ
- اپنے سے بے سمجھ کو حق کی کہاں پچھانت'من عَرَفَ' کو نہ بوجھا 'قد عَرَفَ' سوں جہالتعلیم اللہ
- الٰہی بلبل گل زار معنی کر لساں میرابرنگ ابر نیسانی سخن گوہر فشاں میراعلیم اللہ
- بحریؔ پچھانے نیں اسے گل کے سو وہ دم ساز تھےچنچل چھبیلے چلبلے مغرور صاحب ناز تھےعلیم اللہ
- پیا کے رخ کی جھلک کا پرتو کیا ہے جھلکار آفتابینظر سوں عالم کے ہو رہی ہے مثال خفاش بے حجابیعلیم اللہ
- پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چلاپنے پیا کو عشق سوں اپنے رجھائیں چلعلیم اللہ
- تو ہے کس منزل میں تیرا بول کھاں ہے دل کا ٹھاردم ترا آتا ہے کھاں سوں بول کھاں جاتا ہے بھارعلیم اللہ