Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیںموت بہتر ایسے جینے سے تو کچھ حاصل نہیںصفدر مرزا پوری
  2. جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلادیر سے ہو کے برہمن بھی مسلماں نکلاصفدر مرزا پوری
  3. چھپنے والے یہ بھی چھپنے کا کوئی انداز ہےتو ہے پردے میں مگر باہر تری آواز ہےصفدر مرزا پوری
  4. حسینوں پر کسی کا جب دل ناشاد آتا ہےہمیں اپنی جوانی کا زمانہ یاد آتا ہےصفدر مرزا پوری
  5. دل میں پہلے تو کھٹکتا نہ تھا ارماں کوئیرہ گیا ٹوٹ کے شاید ترا پیکاں کوئیصفدر مرزا پوری
  6. دور مجھ تک نہیں آتا کبھی پیمانے کاکچھ عجب رنگ ہے ساقی ترے میخانے کاصفدر مرزا پوری
  7. دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کیتڑپا رہی ہے قلب کو بجلی نگاہ کیصفدر مرزا پوری
  8. رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیںہم کیا بتائیں درد کہاں ہے کہاں نہیںصفدر مرزا پوری
  9. سونے دیتا نہیں شب بھر دل بیمار مجھےدرد نے اٹھ کے پکارا ہے کئی بار مجھےصفدر مرزا پوری
  10. ضرور بام پر آئے وہ بے نقاب کہیںنظر مجھے نہیں آتا ہے آفتاب کہیںصفدر مرزا پوری
  11. عنایت اس قدر اللہ اکبر اپنے بسمل پرکلیجے پر کبھی وہ ہاتھ رکھتے ہیں کبھی دل پرصفدر مرزا پوری
  12. کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیںوہ جو یوں بے سر و سامان چلے آتے ہیںصفدر مرزا پوری
  13. کلیجہ منہ کو آتا ہے کریں تم سے بیاں کیونکرنہ پوچھو ہم صفیرو ہم سے چھوٹا آشیاں کیونکرصفدر مرزا پوری
  14. کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میںاسیروں کو ذرا تسکین ہو جاتی ہے زنداں میںصفدر مرزا پوری
  15. کیوں خال رخ محبوب کا احساں ہوتادل جلا تھا تو چراغ شب ہجراں ہوتاصفدر مرزا پوری
  16. گرائیں گی یہ بجلی جس طرف ان کا گزر ہوگامری آہوں میں بھی ان کی نگاہوں کا اثر ہوگاصفدر مرزا پوری
  17. گیا اب آفتاب حشر کا بھی جلوہ گر ہوناشب فرقت ہماری ہے یہ کیا جانے سحر ہوناصفدر مرزا پوری
  18. مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیںان کو یہ ضد کہ دکھا دو جو کہیں ہوتے ہیںصفدر مرزا پوری
  19. میں جو مر جاؤں عجب عالم رہےغم کو بھی مرنے کا میرے غم رہےصفدر مرزا پوری
  20. نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتازمیں زیر قدم ہوتی نہ سر پر آسماں ہوتاصفدر مرزا پوری
  21. وعدہ رہا نہ یاد مرے مست خواب کواب کیا جواب دوں دل پر اضطراب کوصفدر مرزا پوری
  22. وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیںہم ان کی چال کو ان کی نظر کو دیکھتے ہیںصفدر مرزا پوری
  23. ہمارے زخم کی کیا فکر چارہ جو کرتےتمہیں نے چاک کیا ہے تمہیں رفو کرتےصفدر مرزا پوری
  24. ہوئی ہے زندگانی دشت غربت میں بسر میریوطن میں جب نہ پہنچا میں تو کیا پہنچے خبر میریصفدر مرزا پوری
  25. ذرا بھی دم ترے بیمار ناتواں میں نہیںمکاں میں یوں ہے کہ جیسے کوئی مکاں میں نہیںصفدر مرزا پوری
  26. کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہواس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہوصفدر مرزا پوری
  27. میری صورت کو دیکھو کچھ نہ پوچھو ماجرا میراکہ جو گزری ہے مجھ پر خوب واقف ہے خدا میراصفدر مرزا پوری
  28. آہ کو جو کہوں برائی کیبخت نے کون سی رسائی کیزین العابدین خاں عارف
  29. اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیادشوار تھا یہ کام پر آساں نکل گیازین العابدین خاں عارف
  30. اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیامجھ کو ایک لطف کی کر کے جو نظر چھوڑ دیازین العابدین خاں عارف
  31. اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتےارمان مرے جی کے نکلنے نہیں دیتےزین العابدین خاں عارف
  32. ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئیبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئیزین العابدین خاں عارف
  33. تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاریتقدیر مری ہو گئی تدبیر تمہاریزین العابدین خاں عارف
  34. تم جو کہتے ہو کہ آویں گے ترے ہاں کل تککون جیتا ہے جدائی میں مری جاں کل تکزین العابدین خاں عارف
  35. جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلےیہ سوئے ملک عدم شرمسار ہو کے چلےزین العابدین خاں عارف
  36. در پہ رہے یہ دیدۂ گریاں تمام عمرلیکن بجھی نہ آتش ہجراں تمام عمرزین العابدین خاں عارف
  37. رات یاد نگہ یار نے سونے نہ دیاشادئ وعدۂ دل دار نے سونے نہ دیازین العابدین خاں عارف
  38. رخ پر رہی وہ زلف معنبر تمام راتروشن نہ وصل میں ہوا یہ گھر تمام راتزین العابدین خاں عارف
  39. زور پر آہ تھی اور نالۂ شب گیر بھی تھامانتا ہم کو کبھی یہ فلک پیر بھی تھازین العابدین خاں عارف
  40. سب سے بہتر ہے کہ مجھ پر مہرباں کوئی نہ ہوہم نشیں کوئی نہ ہو اور رازداں کوئی نہ ہوزین العابدین خاں عارف
  41. سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیںپتھر کو جھاڑیے تو نکلتا شرر نہیںزین العابدین خاں عارف
  42. سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاریپاؤں پر رکھتا نہیں ان کے سمجھ کر بھاریزین العابدین خاں عارف
  43. قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاکپھرتی ہے وہ بھی گلیوں میں اکثر اڑا کے خاکزین العابدین خاں عارف
  44. کچھ چپ ہیں آئنہ جو وہ ہر بار دیکھ کرکڑھتے ہیں اپنی چشم کو بیمار دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
  45. کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میراحال کچھ اس سے بھی افزوں ہے پریشاں میرازین العابدین خاں عارف
  46. کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئےقلزم اشک میں جوں لخت جگر بیٹھ گئےزین العابدین خاں عارف
  47. کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نےاس کی نہ دکھائی مجھے تصویر کسی نےزین العابدین خاں عارف
  48. کیوں آئینے میں دیکھا تو نے جمال اپنادیکھا تو خیر دیکھا پر دل سنبھال اپنازین العابدین خاں عارف
  49. مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گےہم جینے کو اپنے یہ مصیبت نہ کریں گےزین العابدین خاں عارف
  50. میرے دل کو بٹھا دیا کس نےآ کے کعبے کو ڈھا دیا کس نےزین العابدین خاں عارف