Poetry
Poet
Meter
- جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیںموت بہتر ایسے جینے سے تو کچھ حاصل نہیںصفدر مرزا پوری
- جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلادیر سے ہو کے برہمن بھی مسلماں نکلاصفدر مرزا پوری
- چھپنے والے یہ بھی چھپنے کا کوئی انداز ہےتو ہے پردے میں مگر باہر تری آواز ہےصفدر مرزا پوری
- حسینوں پر کسی کا جب دل ناشاد آتا ہےہمیں اپنی جوانی کا زمانہ یاد آتا ہےصفدر مرزا پوری
- دل میں پہلے تو کھٹکتا نہ تھا ارماں کوئیرہ گیا ٹوٹ کے شاید ترا پیکاں کوئیصفدر مرزا پوری
- دور مجھ تک نہیں آتا کبھی پیمانے کاکچھ عجب رنگ ہے ساقی ترے میخانے کاصفدر مرزا پوری
- دیکھا ادھر کسی نے ادھر میں نے آہ کیتڑپا رہی ہے قلب کو بجلی نگاہ کیصفدر مرزا پوری
- رکھے ہیں آپ ہاتھ جہاں اب وہاں نہیںہم کیا بتائیں درد کہاں ہے کہاں نہیںصفدر مرزا پوری
- سونے دیتا نہیں شب بھر دل بیمار مجھےدرد نے اٹھ کے پکارا ہے کئی بار مجھےصفدر مرزا پوری
- ضرور بام پر آئے وہ بے نقاب کہیںنظر مجھے نہیں آتا ہے آفتاب کہیںصفدر مرزا پوری
- عنایت اس قدر اللہ اکبر اپنے بسمل پرکلیجے پر کبھی وہ ہاتھ رکھتے ہیں کبھی دل پرصفدر مرزا پوری
- کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیںوہ جو یوں بے سر و سامان چلے آتے ہیںصفدر مرزا پوری
- کلیجہ منہ کو آتا ہے کریں تم سے بیاں کیونکرنہ پوچھو ہم صفیرو ہم سے چھوٹا آشیاں کیونکرصفدر مرزا پوری
- کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میںاسیروں کو ذرا تسکین ہو جاتی ہے زنداں میںصفدر مرزا پوری
- کیوں خال رخ محبوب کا احساں ہوتادل جلا تھا تو چراغ شب ہجراں ہوتاصفدر مرزا پوری
- گرائیں گی یہ بجلی جس طرف ان کا گزر ہوگامری آہوں میں بھی ان کی نگاہوں کا اثر ہوگاصفدر مرزا پوری
- گیا اب آفتاب حشر کا بھی جلوہ گر ہوناشب فرقت ہماری ہے یہ کیا جانے سحر ہوناصفدر مرزا پوری
- مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیںان کو یہ ضد کہ دکھا دو جو کہیں ہوتے ہیںصفدر مرزا پوری
- میں جو مر جاؤں عجب عالم رہےغم کو بھی مرنے کا میرے غم رہےصفدر مرزا پوری
- نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتازمیں زیر قدم ہوتی نہ سر پر آسماں ہوتاصفدر مرزا پوری
- وعدہ رہا نہ یاد مرے مست خواب کواب کیا جواب دوں دل پر اضطراب کوصفدر مرزا پوری
- وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیںہم ان کی چال کو ان کی نظر کو دیکھتے ہیںصفدر مرزا پوری
- ہمارے زخم کی کیا فکر چارہ جو کرتےتمہیں نے چاک کیا ہے تمہیں رفو کرتےصفدر مرزا پوری
- ہوئی ہے زندگانی دشت غربت میں بسر میریوطن میں جب نہ پہنچا میں تو کیا پہنچے خبر میریصفدر مرزا پوری
- ذرا بھی دم ترے بیمار ناتواں میں نہیںمکاں میں یوں ہے کہ جیسے کوئی مکاں میں نہیںصفدر مرزا پوری
- کیوں کہہ رہے ہو نزع میں ہم سے خفا نہ ہواس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہوصفدر مرزا پوری
- میری صورت کو دیکھو کچھ نہ پوچھو ماجرا میراکہ جو گزری ہے مجھ پر خوب واقف ہے خدا میراصفدر مرزا پوری
- آہ کو جو کہوں برائی کیبخت نے کون سی رسائی کیزین العابدین خاں عارف
- اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیادشوار تھا یہ کام پر آساں نکل گیازین العابدین خاں عارف
- اس پہ کرنا مرے نالوں نے اثر چھوڑ دیامجھ کو ایک لطف کی کر کے جو نظر چھوڑ دیازین العابدین خاں عارف
- اس در پہ مجھے یار مچلنے نہیں دیتےارمان مرے جی کے نکلنے نہیں دیتےزین العابدین خاں عارف
- ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئیبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئیزین العابدین خاں عارف
- تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاریتقدیر مری ہو گئی تدبیر تمہاریزین العابدین خاں عارف
- تم جو کہتے ہو کہ آویں گے ترے ہاں کل تککون جیتا ہے جدائی میں مری جاں کل تکزین العابدین خاں عارف
- جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلےیہ سوئے ملک عدم شرمسار ہو کے چلےزین العابدین خاں عارف
- در پہ رہے یہ دیدۂ گریاں تمام عمرلیکن بجھی نہ آتش ہجراں تمام عمرزین العابدین خاں عارف
- رات یاد نگہ یار نے سونے نہ دیاشادئ وعدۂ دل دار نے سونے نہ دیازین العابدین خاں عارف
- رخ پر رہی وہ زلف معنبر تمام راتروشن نہ وصل میں ہوا یہ گھر تمام راتزین العابدین خاں عارف
- زور پر آہ تھی اور نالۂ شب گیر بھی تھامانتا ہم کو کبھی یہ فلک پیر بھی تھازین العابدین خاں عارف
- سب سے بہتر ہے کہ مجھ پر مہرباں کوئی نہ ہوہم نشیں کوئی نہ ہو اور رازداں کوئی نہ ہوزین العابدین خاں عارف
- سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیںپتھر کو جھاڑیے تو نکلتا شرر نہیںزین العابدین خاں عارف
- سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاریپاؤں پر رکھتا نہیں ان کے سمجھ کر بھاریزین العابدین خاں عارف
- قائل بھلا ہوں نامہ بری میں صبا کے خاکپھرتی ہے وہ بھی گلیوں میں اکثر اڑا کے خاکزین العابدین خاں عارف
- کچھ چپ ہیں آئنہ جو وہ ہر بار دیکھ کرکڑھتے ہیں اپنی چشم کو بیمار دیکھ کرزین العابدین خاں عارف
- کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میراحال کچھ اس سے بھی افزوں ہے پریشاں میرازین العابدین خاں عارف
- کیا کہیں ہم تھے کہ یا دیدۂ تر بیٹھ گئےقلزم اشک میں جوں لخت جگر بیٹھ گئےزین العابدین خاں عارف
- کی میرے تڑپنے کی نہ تدبیر کسی نےاس کی نہ دکھائی مجھے تصویر کسی نےزین العابدین خاں عارف
- کیوں آئینے میں دیکھا تو نے جمال اپنادیکھا تو خیر دیکھا پر دل سنبھال اپنازین العابدین خاں عارف
- مر جائیں گے لیکن کبھی الفت نہ کریں گےہم جینے کو اپنے یہ مصیبت نہ کریں گےزین العابدین خاں عارف
- میرے دل کو بٹھا دیا کس نےآ کے کعبے کو ڈھا دیا کس نےزین العابدین خاں عارف