Poetry
Poet
Meter
- زمین دل پہ سبھی آسمان چھوڑ گیاوہ اک یقین تھا لیکن گمان چھوڑ گیاZaheen Bikaneri (b. 1979)
- سکون قلب ہے دھڑکن کی انتہا ہے غزلوقار زیست ہے سانسوں کا سلسلہ ہے غزلZaheen Bikaneri (b. 1979)
- مری ہر بات کا اقرار کر کےگیا وہ زندگی دشوار کر کےZaheen Bikaneri (b. 1979)
- مہکتے پھول جو ہر سو نظر میں رکھتا ہےوہ شخص اپنی اداسی کو گھر میں رکھتا ہےZaheen Bikaneri (b. 1979)
- ہر بندھن کو مار کے ٹھوکر آئی ہےتیری خوشبو میرے اندر آئی ہےZaheen Bikaneri (b. 1979)
- ایک تو کاوش جگر بھی کروںاور پھر منت ثمر بھی کروںNadeem ahmad (b. 1979)
- جہاں پہ ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتاوہیں تلاش کرو میں جہاں نہیں ہوتاNadeem ahmad (b. 1979)
- خاک اطراف میں اڑتی ہے بہت پانی دےاس مسافت کو بھی ایک خطۂ بارانی دےNadeem ahmad (b. 1979)
- رکنا پڑے گا اور بھی چلنے کے نام پرگرتی رہے گی خلق سنبھلنے کے نام پرNadeem ahmad (b. 1979)
- مری نظر کو در و بام پر لگایا ہوا ہےچلو کسی نے مجھے کام پر لگایا ہوا ہےNadeem ahmad (b. 1979)
- منہ اندھیرے ہی کوئی گھر سے نکلتا ہوا تھاایک منظر تھا کہ منظر سے نکلتا ہوا تھاNadeem ahmad (b. 1979)
- یاد پڑتا تو نہیں کب مرا دیکھا ہوا ہےایسا لگتا ہے کہ یہ سب مرا دیکھا ہوا ہےNadeem ahmad (b. 1979)
- معلوم نہیں نیند کسے کہتے ہیں لیکنکرتا تو ہوں اک کام میں سونے کی طرح کاNadeem ahmad (b. 1979)
- اک بت ہے جسے میری نظر ڈھونڈھ رہی ہےمشکل ہے ملاقات مگر ڈھونڈھ رہی ہےJagjit Kafir (b. 1979)
- بڑے یقین سے کوئی اس انتظار میں ہےترا وصال کا وعدہ اسی بہار میں ہےJagjit Kafir (b. 1979)
- دیدار تیرے حسن کا بس آنکھ بھر کروںاور پھر اسی سرور میں پہروں بسر کروںJagjit Kafir (b. 1979)
- کوئی حبیب کوئی مہرباں تو ہے ہی نہیںہمارے سر پے کوئی آسماں تو ہے ہی نہیںJagjit Kafir (b. 1979)
- مستقبل کے خواب سجانا مشکل ہےاب یادوں سے دل بہلانا مشکل ہےJagjit Kafir (b. 1979)
- میں اگر دل جلا نہیں ہوتاشعر کوئی کہا نہیں ہوتاJagjit Kafir (b. 1979)
- یہ زمیں یہ آسماں یہ کہکشاں کچھ بھی نہیںسب فنا کی قید میں ہیں جاوداں کچھ بھی نہیںJagjit Kafir (b. 1979)
- اک نئے مسئلے سے نکلے ہیںیہ جو کچھ راستے سے نکلے ہیںKaami Shah (b. 1979)
- اگر کار محبت میں محبت راس آ جاتیتمہارا ہجر اچھا تھا جو وصلت راس آ جاتیKaami Shah (b. 1979)
- اگر میں سچ کہوں تو صبر ہی کی آزمائش ہےیہ مٹی امتحاں پیارے یہ پانی آزمائش ہےKaami Shah (b. 1979)
- دل کی آواز میں قیام کریںآ مرے یار آ کلام کریںKaami Shah (b. 1979)
- نبود و بود کے منظر بناتا رہتا ہوںمیں زرد آگ میں خود کو جلاتا رہتا ہوںKaami Shah (b. 1979)
- ویسے تم اچھی لڑکی ہولیکن میری کیا لگتی ہوKaami Shah (b. 1979)
- ہر ایک گام پہ رنج سفر اٹھاتے ہوئےمیں آ پڑا ہوں یہاں تجھ سے دور جاتے ہوئےKaami Shah (b. 1979)
- آتشیں لہر نہ برفاب میں رکھی جائےشب غنودہ مرے اعصاب میں رکھی جائےDaniyal Tareer (1980–2015)
- آگ میں جلتے ہوئے دیکھا گیا ہےآسماں گلتے ہوئے دیکھا گیا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- اجالا ہی اجالا روشنی ہی روشنی ہےاندھیرے میں جو تیری آنکھ مجھ کو دیکھتی ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- ایک بجھاؤ ایک جلاؤ خواب کا کیا ہےآنکھوں میں رکھ کر سو جاؤ خواب کا کیا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- بدن پر ٹانک کر تارے اڑایا جا رہا ہےمجھے آخر پرندہ کیوں بنایا جا رہا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- بلا جواز نہیں ہے فلک سے جنگ مریاٹک گئی ہے ستارے میں اک پتنگ مریDaniyal Tareer (1980–2015)
- بہ طرز خواب سجانی پڑی ہے آخر کارنئی زمین بنانی پڑی ہے آخر کارDaniyal Tareer (1980–2015)
- پانی کے شیشوں میں رکھی جاتی ہےسندرتا جھیلوں میں رکھی جاتی ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- تسلسل سے گماں لکھا گیا ہےیقیں تو ناگہاں لکھا گیا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- جرس اور ساربانوں تک پہنچنا چاہتا ہےیہ دل اگلے زمانوں تک پہنچنا چاہتا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- چاند چھونے کی طلب گار نہیں ہو سکتیکیا مری خاک چمکدار نہیں ہو سکتیDaniyal Tareer (1980–2015)
- خاموشی کی قرأت کرنے والے لوگابو جی اور سارے مرنے والے لوگDaniyal Tareer (1980–2015)
- خواب جزیرہ بن سکتے تھے نہیں بنےہم بھی قصہ بن سکتے تھے نہیں بنےDaniyal Tareer (1980–2015)
- خواب کاری وہی کمخواب وہی ہے کہ نہیںشعر کا حسن ابد تاب وہی ہے کہ نہیںDaniyal Tareer (1980–2015)
- رنگ اور نور کی تمثیل سے ہوگا کہ نہیںشب کا ماتم مری قندیل سے ہوگا کہ نہیںDaniyal Tareer (1980–2015)
- ریت مٹھی میں بھری پانی سے آغاز کیاسخت مشکل میں تھا آسانی سے آغاز کیاDaniyal Tareer (1980–2015)
- ساکت ہو مگر سب کو روانی نظر آئےاس ریت کے صدقے کہ جو پانی نظر آئےDaniyal Tareer (1980–2015)
- کھنڈر یہ پھر بسانے کا ارادہ ہی نہیں تھابدن میں لوٹ آنے کا ارادہ ہی نہیں تھاDaniyal Tareer (1980–2015)
- گماں اندر گماں کی کیفیت ہےزمیں پر آسماں کی کیفیت ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- گیا کہ سیل رواں کا بہاؤ ایسا تھاوہ ایک خواب جو کاغذ کی ناؤ ایسا تھاDaniyal Tareer (1980–2015)
- مٹی تھا اور دودھ میں گوندھا گیا مجھےاک چاند کے وجود میں گوندھا گیا مجھےDaniyal Tareer (1980–2015)
- نئی نئی صورتیں بدن پر اجالتا ہوںلہو سے کیسے عجیب منظر نکالتا ہوںDaniyal Tareer (1980–2015)
- حرفوں کی ترتیب الٹ کرکان کو ناک بنا سکتا ہوںDaniyal Tareer (1980–2015)