Poetry
Poet
Meter
- گڑیا! بولوگڑیا! اپنی آنکھیں کھولوDaniyal Tareer (1980–2015)
- نظم کہوگےکہہ لوگے کیا؟Daniyal Tareer (1980–2015)
- ہوا نے سانس لیا تھاابھی کہانی میںDaniyal Tareer (1980–2015)
- چیخنا ہے مجھےاس زمیں پرDaniyal Tareer (1980–2015)
- کہاں پر لفظ لکھ کر فاصلہ دیناکہاں کومہ لگانا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- نہیں میں نہیں ہوںکسی دوسرے نے مجھے ''میں'' کہا ہےDaniyal Tareer (1980–2015)
- وقت اور نا وقت کے مابینکتنا فاصلہDaniyal Tareer (1980–2015)
- ہمارے غم جدا تھےقریۂ دل کی فضا آب و ہواDaniyal Tareer (1980–2015)
- اب اجڑنے کے ہم نہ بسنے کےکٹ گئے جال سارے پھنسنے کےBakul Dev (b. 1980)
- اپنا بگڑا ہوا بناؤ لیےجی رہے ہیں وہی سبھاؤ لیےBakul Dev (b. 1980)
- بار دیگر یہ فلسفے دیکھوںزخم پھر سے ہرے بھرے دیکھوںBakul Dev (b. 1980)
- بارشوں میں اب کے یاد آئے بہتابر جو برسے نہیں چھائے بہتBakul Dev (b. 1980)
- ترا لحظہ وہی تلوار جیسا تھامری گردن میں خم ہر بار جیسا تھاBakul Dev (b. 1980)
- جان لے لے نہ ضبط آہ کہیںرو لیا کیجے گاہ گاہ کہیںBakul Dev (b. 1980)
- جو ہے چشمہ اسے سراب کروشہر تشنہ میں انقلاب کروBakul Dev (b. 1980)
- چال اپنی ادا سے چلتے ہیںہم کہاں کج روی سے ٹلتے ہیںBakul Dev (b. 1980)
- حادثات اب کے سفر میں نئے ڈھب سے آئےکشتیاں بھی نہیں ڈوبی نہ کنارے آئےBakul Dev (b. 1980)
- دل سے بے سود اور جاں سے خرابہو رہا ہوں کہاں کہاں سے خرابBakul Dev (b. 1980)
- سماعت کے لیے اک امتحاں ہےخموشی ان دنوں مثل بیاں ہےBakul Dev (b. 1980)
- کم نہ ہوگی یہ سرگرانی کیایوں ہی گزرے گی زندگانی کیاBakul Dev (b. 1980)
- کون کہتا ہے ٹھہر جانا ہےرنگ چڑھنا ہے اتر جانا ہےBakul Dev (b. 1980)
- گو ذرا تیز شعاعیں تھیں ذرا مند تھے ہمتو نے دیکھا ہی نہیں غور سے ہر چند تھے ہمBakul Dev (b. 1980)
- مرے کچھ بھی کہے کو کاٹتا ہےوہ اپنے دائرے کو کاٹتا ہےBakul Dev (b. 1980)
- ہمیں دیکھا نہ کر اڑتی نظر سےامیدوں کے نکل آتے ہیں پر سےBakul Dev (b. 1980)
- ہمیں راس آنی ہے راہوں کی گٹھریرکھو پاس اپنی پناہوں کی گٹھریBakul Dev (b. 1980)
- ہوئے ہم بے سر و سامان لیکنسفر کو کر لیا آسان لیکنBakul Dev (b. 1980)
- یہ کس کی یاد کا دل پر رفو تھاکہ بہہ جانے پہ آمادہ لہو تھاBakul Dev (b. 1980)
- سمت دنیا کے ہم گئے ہی نہیںاس علاقے سے دشمنی سی رہیBakul Dev (b. 1980)
- ہمیں اس طرح ہی ہونا تھا آبادہمارے ساتھ ویرانے لگے ہیںBakul Dev (b. 1980)
- اسی لئے ہمیں احساس بے وفائی نہیںہمارے پاس ہیں کنگن کوئی کلائی نہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- بات بن جائے جو تفصیل سے باتیں کر لےتشنگی میری اگر جھیل سے باتیں کر لےFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- بھنگ کھاتے ہیں نہ گانجا نہ چرس پیتے ہیںہم وہ بھنورے ہیں جو احساس کا رس پیتے ہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- پڑھ رہے تھے وہ لب حور ہمارا قصہیوں ہی تھوڑی ہوا مشہور ہمارا قصہFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- تمام حسن و معانی کا رنگ اڑنے لگاکھلی جو دھوپ تو پانی کا رنگ اڑنے لگاFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- تمام دنیا کا لخت جگر بنا ہوا تھاوہ آدمی جو مرا درد سر بنا ہوا تھاFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- جتن سے رکھ ہمیں جب تک کہ با حیات ہیں ہمترے بدن کی ریاست کے کاغذات ہیں ہمFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- جو فن سے فکر کی تدبیر گفتگو کرے گیتو گونگی بہری بھی تصویر گفتگو کرے گیFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- دن اترتے ہی نئی شام پہن لیتا ہوںمیں تری یادوں کا احرام پہن لیتا ہوںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- صراحی مضمحل ہے مے کا پیالہ تھک چکا ہےدر ساقی پہ ہر اک آنے والا تھک چکا ہےFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- کسی کا سایا نہ آنچل ہمارے ساتھ ہواتمہارے بعد بہت چھل ہمارے ساتھ ہواFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- لگا کہ جیسے کسی کانپتے ہرن کو چھواہمارے ہاتھوں نے جب پھول سے بدن کو چھواFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- لوگ کہتے ہیں بہت ہم نے کمائی دنیاآج تک میری سمجھ میں نہیں آئی دنیاFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- لے کے اس گھاٹ سے اس گھاٹ گئی میرا وجودفکر دیمک کی طرح چاٹ گئی میرا وجودFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- نہ تو ہم بحر سے واقف نہ سخن جانتے ہیںکیسے دیں لفظوں کو ترتیب یہ فن جانتے ہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- نہ جانے کس کے سہارے بدن سے لگ گیا ہےتمہارا روگ ہمارے بدن سے لگ گیا ہےFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- نیا ادب نئے آداب کون دیکھے گاہمارا حلقۂ احباب کون دیکھے گاFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- نیا سخن نئے طرز سخن میں رکھ دیا ہےجو بے وطن تھے انہیں بھی وطن میں رکھ دیا ہےFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- وادیٔ جسم میں بکھراؤ نہیں چاہتے ہیںہم ترے ہاتھوں کوئی گھاؤ نہیں چاہتے ہیںFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- یوں پہنچنا ہے مجھے روح کی طغیانی تکجس طرح رسی سے جاتا ہے گھڑا پانی تکFaiz Khalilabadi (b. 1980)
- تم جو دامن ذرا بھگو لیتےہم بھی کچھ دیر کھل کے رو لیتےRabia Basri (b. 1980)