مہکتے پھول جو ہر سو نظر میں رکھتا ہے

Zaheen Bikaneri (b. 1979)

مہکتے پھول جو ہر سو نظر میں رکھتا ہے

وہ شخص اپنی اداسی کو گھر میں رکھتا ہے

اسی لئے تو بلندی ہے اس کے زیر قدم

ہنر اڑان کے وہ بال و پر میں رکھتا ہے

ہمیں تو پیار سے دم بھر کی بھی نہیں فرصت

ترا جگر ہے جو نفرت جگر میں رکھتا ہے

ہر ایک راہ گزر اس کی کیوں نہ ہو روشن

ترا خیال جو اپنے سفر میں رکھتا ہے

اسی لئے ہی مجھے خوبیاں ہوئیں حاصل

وہ میری خامیاں اپنی نظر میں رکھتا ہے

بدل ہی دے گا مقدر کی سب لکیروں کو

وہ اعتماد جو دست ہنر میں رکھتا ہے

ذہینؔ فیصلے اس پر ہی چھوڑ دے سارے

تو بات بات کو کیوں خیر و شر میں رکھتا ہے