زمین دل پہ سبھی آسمان چھوڑ گیا

Zaheen Bikaneri (b. 1979)

زمین دل پہ سبھی آسمان چھوڑ گیا

وہ اک یقین تھا لیکن گمان چھوڑ گیا

نئی زمین نیا آسمان چھوڑ گیا

ترا وجود مری داستان چھوڑ گیا

ہر ایک سانس میں کیوں امتحان چھوڑ گیا

نڈھال جسم میں وہ سخت جان چھوڑ گیا

نہ جانے کتنے سوالوں کو دے دیا موقع

وہ بے زبان تھا لیکن بیان چھوڑ گیا

گیا سفر پہ تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

وہ اپنے پاؤں کے لیکن نشان چھوڑ گیا

نیا ارادہ نئی منزلوں کو پانے میں

پرانی سوچ پرانی تکان چھوڑ گیا

ذہینؔ دل تھا جو پہلے ہی دے دیا اس کو

اب اک دماغ بچا تھا سو دھیان چھوڑ گیا