سکون قلب ہے دھڑکن کی انتہا ہے غزل

Zaheen Bikaneri (b. 1979)

سکون قلب ہے دھڑکن کی انتہا ہے غزل

وقار زیست ہے سانسوں کا سلسلہ ہے غزل

کلی کی نازکی پھولوں کی ہر ادا ہے غزل

دلہن کی شرم و حیا سرخیٔ حنا ہے غزل

زمانے بھر کی تو ہر شے سے آشنا ہے غزل

تمام لفظ ترے دل کا آئنہ ہے غزل

کبھی مچلتے لبوں کی سی نازکی تو کبھی

دہکتی ریت پہ ٹھہری ہوئی نوا ہے غزل

نئی حیات کے پہلو کو دستکیں دیتی

لباس روح میں اتری ہوئی صدا ہے غزل

اندھیری رات میں امید کی کرن جیسی

کسی غریب کی خوشیوں کی ابتدا ہے غزل

نگار حسن ہے یہ حسن کائنات بھی ہے

اسی لیے تو ہمیشہ سے خوش نما ہے غزل

دوپٹا کھینچ لیا اس کا جس نے جب چاہا

سخن کی لاج ہے پھر بھی تو بے ردا ہے غزل

ذہینؔ اس کا اثر بے اثر نہیں ہوتا

کسی فقیر کی مانگی ہوئی دعا ہے غزل