گماں اندر گماں کی کیفیت ہے
Daniyal Tareer (1980–2015)گماں اندر گماں کی کیفیت ہے
زمیں پر آسماں کی کیفیت ہے
بدن پر برف کو محسوس کرنا
کوئی آب رواں کی کیفیت ہے
یہ کیسا تجربہ ہے سوچتا ہوں
مکاں میں لا مکاں کی کیفیت ہے
کوئی آواز ابھری ہے بدن میں
سکوت جاوداں کی کیفیت ہے
نہیں ہوں میں نہیں ہوں بولتا ہوں
نہیں میں یعنی ہاں کی کیفیت ہے
ترے لب جھیل پر ابھرے ہوئے ہیں
عجب زخم نہاں کی کیفیت ہے
طریرؔ اک بار جینا چاہتا ہوں
جو سب آئندگاں کی کیفیت ہے