ہر بندھن کو مار کے ٹھوکر آئی ہے

Zaheen Bikaneri (b. 1979)

ہر بندھن کو مار کے ٹھوکر آئی ہے

تیری خوشبو میرے اندر آئی ہے

لے کے جو خوابوں کا لشکر آئی ہے

نیند وہ آئی ہے تو دم بھر آئی ہے

آنکھوں آنکھوں منظر منظر آئی ہے

مایوسی امید سے بڑھ کر آئی ہے

گلشن گلشن راز صبا نے کھول دیا

اک تتلی پھر بھیس بدل کر آئی ہے

میری ہر مشکل وہ آساں کر دے گی

ایک دعا جو تیرے لب پر آئی ہے

شکر ہے گونگے بہروں کی اس دنیا میں

کوئی تو آواز ابھر کر آئی ہے

اس سے زیادہ پیار بھلا کیا ہوگا ذہینؔ

اس کی آفت بھی میرے سر آئی ہے