مری ہر بات کا اقرار کر کے

Zaheen Bikaneri (b. 1979)

مری ہر بات کا اقرار کر کے

گیا وہ زندگی دشوار کر کے

پرانا غم نیا سنگھار کر کے

چلا جائے گا مجھ سے پیار کر کے

تو ہارا ظلم کی حد سے گزر کر

میں جیتا صبر کو ہتھیار کر کے

حقیقت اور ہی ہوگی یقیناً

پڑھو چہروں کو تم اخبار کر کے

غلط فہمی دلوں کے بیچ اکثر

چلی جاتی ہے اک دیوار کر کے

عداوت میں تو آسانی ہے لیکن

بہت مشکل ہے جینا پیار کر کے

ذہینؔ آخر زمانہ سو گیا ہے

ترے ہر درد کو بیدار کر کے