ترے گواہ نے کیسا بیان رکھا ہے

Chandra Shekhar Varma (b. 1967)

ترے گواہ نے کیسا بیان رکھا ہے

کہا ہے جھوٹ مگر سچ کا دھیان رکھا ہے

پتہ لگاؤ کہ وہ خود کو کیا سمجھتا ہے

جہان بھر نے خدا جس کو مان رکھا ہے

نہ جانے کب کسی کے واسطے دھڑکنا ہو

سو دل نے خود کو ابھی تک جوان رکھا ہے

زباں پہ آتی ہوئی دل کی بات سے ڈر کر

کسی نے منہ میں اچانک سے پان رکھا ہے

خدا کے پاس اضافی تھا فاصلہ جتنا

وہ اس نے تیرے مرے درمیان رکھا ہے

جو کاٹتا ہے اسے دی زبان لمبی سی

جو کٹ رہا ہے اسے بے زبان رکھا ہے

سنو گے بات تو تم سب کی دھیان سے شیکھرؔ

کرو گے تم وہی جو تم نے ٹھان رکھا ہے