Poetry
Poet
Meter
- دل اپنا شب ہجر میں رات بھرلٹکتا رہا درد کے دار پرLatif Shah Shahid (b. 1968)
- دل و نگاہ میں جیسے ٹھہر گیا موسمتمہارے باد نہ بدلا یہ درد کا موسمLatif Shah Shahid (b. 1968)
- اشتیاق رقص میں حد سے نکلتے جا رہےدائرے کو کھینچ کر اوقات میں لانا پڑاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- باندھ کے عہد وفا لوگ چلے جاتے ہیںچھوڑ جاتے ہیں فقط جسم کی الجھی گانٹھیںLatif Shah Shahid (b. 1968)
- پڑھتا ہے بڑے شوق سے وہ میری کتابیںجس بات سے ڈرتا ہوں وہی بات نہ پڑھ لےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- تازہ ہوا خریدنے آتے ہیں گاؤں میںشاہدؔ شہر کے لوگ بھی کیسے عجیب ہیںLatif Shah Shahid (b. 1968)
- تکلم ہم سے کرتا ہے تو یوں جیسے شہنشہ کومحبت کا کوئی نسخہ قلندر پیش کرتا ہےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- جانے ہیں کس حسین تعلق کی یادگارمجھ کو بہت عزیز ہیں میری یہ وحشتیںLatif Shah Shahid (b. 1968)
- چھڑکا گیا ہے زہر فضاؤں میں اس طرحماؤں نے اپنی کوکھ سے بوڑھے جنم دئےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- خود اپنے آپ سے رہتا ہے آدمی ناراضاداسیوں کے بھی اپنے مزاج ہوتے ہیںLatif Shah Shahid (b. 1968)
- دوسروں کی بات آئی تو پیمبر تھا وہ شخصاپنی باری پر محبت سے ہی مرتد ہو گیاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- ریل کی پٹری فسردہ شام تیرا سوٹ کیسپھر سے آنکھوں میں ترے جانے کا منظر آ گیاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- غم کو احساس کی مٹی میں خدا نے گوندھااور کچھ اشک ملائے تو پھر انسان کیاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- گردش ایام سے چلتی ہے نبض کائناتوقت کا پہیہ رکا تو زندگی رک جائے گیLatif Shah Shahid (b. 1968)
- مجھ سے تو کوئی تاج محل بھی نہ بن سکابے نام دل کی قبر میں دفنا دیا تجھےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- مجھ سے لپٹا ہے امربیل کے مانند کوئیمجھ کو بے برگ نہ کرتا تو ثمر دیتا کیاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- مجھے خاموشیاں پڑھنے کا فن آتا تو پڑھ لیتاتمہاری جھیل سی خاموش آنکھوں کی پشیمانیLatif Shah Shahid (b. 1968)
- محبت روپ میں ڈھلتی تو وہ اک دیوتا ہوتامیں اس کو پوجنے لگتا اگر وہ با وفا ہوتاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- مری آنکھوں میں کیلیں ٹھونک دو ہونٹوں کو سلوا دوبصیرت جرم ہے میرا صداقت میری عادت ہےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- مرے وجداں کی گرہیں کھولتا ہےمرا ہم زاد مجھ میں بولتا ہےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- وہ شخص بول رہا تھا خدا کے لہجے میںمیں سن رہا تھا مگر میں کلیم وقت نہ تھاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- وہ مجھ سے پیار کب کرتا ہے بس ملتا ملاتا ہےکرائے کے مکاں میں کب کوئی پودا لگاتا ہےLatif Shah Shahid (b. 1968)
- یہ اور بات کہ تو دو قدم پہ بھول گیاہمیں تو حشر تلک تیرا انتظار رہاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- ان میں پوشیدہ ہیں حکمت کے خزانے کیا کیاکہہ گئے بات پتے کی ہیں سیانے کیا کیاTabassum Azmi (b. 1968)
- باتوں باتوں میں بڑے ہی پیار سے چھڑکا نمکزخم دشمن کی عطا احباب کا تحفہ نمکTabassum Azmi (b. 1968)
- پردے میں خامشی کے سخن بولنے لگےکاٹی گئی زباں تو نین بولنے لگےTabassum Azmi (b. 1968)
- پھولوں کی مثالیں ہیں کانٹوں کا حوالہ ہےجیون کی ہتھیلی پر رشتوں کا قبالہ ہےTabassum Azmi (b. 1968)
- چہرے پہ کسی کرب کی تنویر نہیں کیمحسوس ہی کرتے رہے تفسیر نہیں کیTabassum Azmi (b. 1968)
- دیوار وقت پر ہیں نوشتے عجیب سےرقصاں گلی گلی میں ہیں سائے مہیب سےTabassum Azmi (b. 1968)
- ذہن و دل میں خوف کے جب سرسراتے سانپ ہیںسیدھے خط بھی لگتے جیسے آڑے ترچھے سانپ ہیںTabassum Azmi (b. 1968)
- رکھا سنجو کے گوہر نایاب کی طرحسونپی تھی جو بزرگوں نے آداب کی طرحTabassum Azmi (b. 1968)
- شہد میں ڈوبے ہوئے کڑوے کریلے مستردجو بھی کہیے صاف کہیے پیچ لچھے مستردTabassum Azmi (b. 1968)
- فرق تجھ سے ہے اک ذرا مجھ میںسنگ تجھ میں ہے آئنہ مجھ میںTabassum Azmi (b. 1968)
- کچھ ایک پل جو بھلائے ہوئے سے لگتے ہیںنظر میں اب بھی سمائے ہوئے سے لگتے ہیںTabassum Azmi (b. 1968)
- نیاز عشق کا ناموس لٹوانا بھی آتا ہےجو ابن الوقت ہیں ان کو بدل جانا بھی آتا ہےTabassum Azmi (b. 1968)
- یہ بھی نہیں کہ ہم نے بھروسا کیا نہ ہویہ بھی نہیں کہ آنکھ سے پردہ ہٹا نہ ہوTabassum Azmi (b. 1968)
- بٹھا کے کاندھے پہ لائی تھی رات اسےشفق نے ہنس کے کیا تھا استقبالTabassum Azmi (b. 1968)
- بھول بھلیا گلیاں ساریدور تلک ہے گھنا اندھیراTabassum Azmi (b. 1968)
- صبح دم آتی ہے اے ہند ترے آنچل سےحمد کی نعت کی پوجا کی بھجن کی خوشبوTabassum Azmi (b. 1968)
- وہ شاخ مضبوط ہو یا نازکیہ منحصر ہے کمال فن پرTabassum Azmi (b. 1968)
- حویلی کے بڑے دروازے پر آویزاںدونوں کیمرے ہر روزTabassum Azmi (b. 1968)
- بڑھاتی ہوں قدمفوراً ہی پیچھے کھینچ لیتی ہوںTabassum Azmi (b. 1968)
- نقش مٹتا ہےتو مٹ جائےTabassum Azmi (b. 1968)
- بن پئے اک خمار تھا کیا تھاتیرا چہرہ بہار تھا کیا تھاFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)
- پہلے اطلس میں جو ملبوس کیے جاتے ہیںپھر وہ ایوانوں میں محبوس کیے جاتے ہیںFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)
- دل کے قرطاس پہ اک لفظ محبت لکھناجو کبھی عشق میں کی تھی وہ ریاضت لکھناFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)
- دے گئے زخم مرے چاہنے والے مجھ کوآج تنہا ہوں بہت کوئی سنبھالے مجھ کوFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)
- ذات جب بھی اڑان تک پہنچیوسعت لا مکان تک پہنچیFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)
- کچھ روز چاہتوں کا عجب سلسلہ رہاوہ دھڑکنوں میں پیار کی صورت بسا رہاFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)
- گزری تھی ایک بار جو دل کی گلی سے میںدو چار آج بھی ہوں اسی بے کلی سے میںFahmida Mosarrat Ahmad (b. 1968)