Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ابر اترا ہے چار سو دیکھواب وہ نکھرے گا خوب رو دیکھوSaadullah Shah (b. 1958)
  2. تم نے کیسا یہ رابطہ رکھانہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھاSaadullah Shah (b. 1958)
  3. درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھیتھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھیSaadullah Shah (b. 1958)
  4. دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھےابر بھی آگ لگانے کے لیے آئے تھےSaadullah Shah (b. 1958)
  5. کسی بھی وہم کو خود پر سوار مت کرناخیال یار کو گرد و غبار مت کرناSaadullah Shah (b. 1958)
  6. کیوں نہ ہم سوچ کے سانچے میں ہی ڈھل کر دیکھیںوہ جو قائم ہے تو پھر خود کو بدل کر دیکھیںSaadullah Shah (b. 1958)
  7. موت اک درندہ ہے زندگی بلا سی ہےصبح بھی اداسی ہے شام بھی اداسی ہےSaadullah Shah (b. 1958)
  8. وقت تو وقت ہے رکتا نہیں اک پل کے لئےہو وہی بات جو قائم بھی رہے کل کے لئےSaadullah Shah (b. 1958)
  9. وہ بھی بگڑا، ہوئی رسوائی بھیجان لیوا ہے شناسائی بھیSaadullah Shah (b. 1958)
  10. ہم کو خوش آیا ترا ہم سے خفا ہو جاناسر بسر خواب کا تعبیر نما ہو جاناSaadullah Shah (b. 1958)
  11. ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کوکیا یہ کافی نہیں ظالم تری حیرانی کوSaadullah Shah (b. 1958)
  12. ہنسی کی بات کہ اس نے وہاں بلا کے مجھےبہت رلایا کہانی مری سنا کے مجھےSaadullah Shah (b. 1958)
  13. یہ رات دن کا بدلنا نظر میں رہتا ہےہمارا ذہن مسلسل سفر میں رہتا ہےSaadullah Shah (b. 1958)
  14. اداس موسم کے رتجگوں میںہر ایک لمحہ بکھر گیا تھاSaadullah Shah (b. 1958)
  15. مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہوکر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہوSaadullah Shah (b. 1958)
  16. جانے کس کی لو کا پرتوپل پل جلتی بجھتی آنکھیںParveen Tahir (b. 1958)
  17. حبیب جاںتم اگر وبا کے دنوں میں آئےParveen Tahir (b. 1958)
  18. مگر اے روشنیاے کائناتی روشنیParveen Tahir (b. 1958)
  19. میں اس دن کی روشن اورسفاک سحر کے ساحل پرParveen Tahir (b. 1958)
  20. نیند میں چلتے چلتے یک دمگر جاتے ہیںParveen Tahir (b. 1958)
  21. عجب پیڑ تھے وہکہ چھتنار چھایا بھیParveen Tahir (b. 1958)
  22. کہاں جا رہے ہوسیہ روشنی کیParveen Tahir (b. 1958)
  23. کئی صدیوں سے آوازوں نےروحوں کو بھنبھوڑا ہےParveen Tahir (b. 1958)
  24. اے زمانےہم تری تکذیب کر سکتے نہیںParveen Tahir (b. 1958)
  25. سمندر سر جھکائے با نہیں پھیلائے ہوئےچپ چاپ بیٹھا ہےParveen Tahir (b. 1958)
  26. ہمیں کس نے دھکیلا اس طرفان نور برساتی ہوئی نیلی فضاؤں سےParveen Tahir (b. 1958)
  27. ہمیں ہر کھیل میں ہر بات پراے مات کے خواہاںParveen Tahir (b. 1958)
  28. اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتاتو درمیاں نہ مقدر کا فیصلہ رکھتاIffat Zarrin (b. 1958)
  29. بے سمت راستوں پہ صدا لے گئی مجھےآہٹ مگر جنوں کی بچا لے گئی مجھےIffat Zarrin (b. 1958)
  30. جسم و جاں کی بستی میں سلسلے نہیں ملتےاب کسی بھی مرکز سے دائرے نہیں ملتےIffat Zarrin (b. 1958)
  31. خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیامختصر یہ ہے وہ میری زندگانی لے گیاIffat Zarrin (b. 1958)
  32. ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہےایک ہی گھر میں بہت سے اجنبی رہتے رہےIffat Zarrin (b. 1958)
  33. روح جسموں سے باہر بھٹکتی رہیزخمی یادوں کو آنچل سے ڈھکتی رہیIffat Zarrin (b. 1958)
  34. عجیب کرب مسلسل دل و نظر میں رہاوہ روشنی کا مسافر اندھیرے گھر میں رہاIffat Zarrin (b. 1958)
  35. گھبرا گئے ہیں وقت کی تنہائیوں سے ہماکتا چکے ہیں اپنی ہی پرچھائیوں سے ہمIffat Zarrin (b. 1958)
  36. منزلیں آئیں تو رستے کھو گئےآبگینے تھے کہ پتھر ہو گئےIffat Zarrin (b. 1958)
  37. آم جو کھائے وہ للچائےجو نہ کھائے وہ پچھتائےIffat Zarrin (b. 1958)
  38. وہ مل گیا تو بچھڑنا پڑے گا پھر زریںؔاسی خیال سے ہم راستے بدلتے رہےIffat Zarrin (b. 1958)
  39. اب تو خوابوں کے ہی سہارے ہیںیہ ہی لے دے کے اب ہمارے ہیںChander Wahid (b. 1958)
  40. احساس پہ بوجھل کچھ صدمات کا قصہ ہےغم صرف تخیل کے لمحات کا قصہ ہےChander Wahid (b. 1958)
  41. بازار جہالت میں سخن بیچ رہا ہوںیہ گیت یہ نغمات یہ فن بیچ رہا ہوںChander Wahid (b. 1958)
  42. دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاںپھر وہی غم پھر وہی تنہائیاںChander Wahid (b. 1958)
  43. صورت اتر نہ جائے کہیں ماہتاب کیکہہ دو کہ بات جھوٹ ہے ان کے شباب کیChander Wahid (b. 1958)
  44. لمحہ وہ تیری یاد کا ایسے گزر گیاجیسے کہ پھول شاخ سے ٹوٹا بکھر گیاChander Wahid (b. 1958)
  45. مجھ پہ مضراب تو ہے ساز کہاں سے لاؤںدل میں گھر کرنے کے انداز کہاں سے لاؤںChander Wahid (b. 1958)
  46. میری راہوں میں ترے نقش قدم رہنے دےمجھ پہ للہ محض اتنا کرم رہنے دےChander Wahid (b. 1958)
  47. وہ دیکھنے میں فقط راستے کا پتھر ہےہزار راہبروں سے مگر وہ بہتر ہےChander Wahid (b. 1958)
  48. یادوں کا درد دل میں ہے کچھ یوں ابھار پرجیسے اگا ہوں ننھا سا پودا مزار پرChander Wahid (b. 1958)
  49. جاہ و حشمت کے لئے رتبہ و عزت کے لئےلوگ بدنام ہوئے جاتے ہیں شہرت کے لئےKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
  50. روشن کچھ امکان نہیں ہےگھر میں روشندان نہیں ہےKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)