Poetry
Poet
Meter
- ہوائے شام نہ جانے کہاں سے آتی ہےوہاں گلاب بہت ہیں جہاں سے آتی ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- ہونٹ کھلیں تو نکلے واہدنیا ایک تماشا گاہObaid Siddiqi (1957–2020)
- یقیناً ہم کو گھر اچھے لگے تھےمکیں پہلے مگر اچھے لگے تھےObaid Siddiqi (1957–2020)
- یہ شہر طرب دیکھ بیابان میں کیا ہےاے طائر وحشت ترے امکان میں کیا ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- آئنہ کون ہے کچھ پتا تو چلےبے خطا کون ہے کچھ پتا تو چلےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- اپنے معصوم گناہوں کی سزا کیا مانگیںدوستو تم سے وفاؤں کا صلہ کیا مانگیںCharan Singh Bashar (b. 1957)
- اگر کچھ سیکھنا ہے زندگی سےچلو آغاز کر لیں آج ہی سےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- ایک مرکز پہ سمٹ آئی ہے ساری دنیاہم تماشا ہیں تماشائی ہے ساری دنیاCharan Singh Bashar (b. 1957)
- اے سر پھری ہوا تجھے اس کی خبر بھی ہےتو جس طرف چلی ہے ادھر میرا گھر بھی ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- سر اٹھا کے مت چلئے آج کے زمانے میںجان جاتی رہتی ہے حوصلہ دکھانے میںCharan Singh Bashar (b. 1957)
- سینے پہ کرے وار جو خنجر وہی اچھاجو کھل کے ستم ڈھائے ستم گر وہی اچھاCharan Singh Bashar (b. 1957)
- فضائے آدمیت کو سنورنے ہی نہیں دیتےسیاست داں دلوں کے زخم بھرنے ہی نہیں دیتےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- کب تک رہے گا شب کا سفر دیکھنا یہ ہےہے کتنی دور اور سحر دیکھنا یہ ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- کسی گم کردۂ منزل نے ہی پہرے پہ رکھی ہےوہ اک زندہ لہو کی بوند جو کانٹے پہ رکھی ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- کون دل کا درد پہچانے کسے آواز دیںسوچتے رہتے ہیں دیوانے کسے آواز دیںCharan Singh Bashar (b. 1957)
- لاکھ کچھ نہ ہم کہتے بے زباں رہے ہوتےآپ تو بہ ہر صورت بد گماں رہے ہوتےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- میں اندھیرا ایک شب کا ترا شمع سا زمانہبھلا کیسے ہوگا ممکن کوئی مل کے گھر بساناCharan Singh Bashar (b. 1957)
- ہمیں جیسے بنا پتوار دریا پار کرتے ہیںوہ کیا موجوں سے ٹکرائیں گے جو پانی سے ڈرتے ہیںCharan Singh Bashar (b. 1957)
- یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہےعلاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- امن و امان پیار کی سوغات چاہئےخوابوں کو نیند نیند کو بھی رات چاہئےSabeen Yunus (b. 1957)
- بکھر گئی ہوں تو کیا آسمان میرا ہےزمیں پہ پاؤں نہیں خاکدان میرا ہےSabeen Yunus (b. 1957)
- تجھ سے جو کچھ تھا ذرا سا واسطہ وہ بھی گیانام ہی کو جو تھا قائم رابطہ وہ بھی گیاSabeen Yunus (b. 1957)
- جس صبر و رضا سے ترے رستے پہ رواں ہوںباطل کے ارادوں کے لئے کوہ گراں ہوںSabeen Yunus (b. 1957)
- چاہتی ہوں کہ میں روؤں تو مناظر رو دیںاس لہو رنگ کو اک بار ہی مل کر دھو دیںSabeen Yunus (b. 1957)
- حقیقتوں سے نظر چرا کے خیال خوابوں میں زندہ رہنازوال کی داستان بن کر فقط کتابوں میں زندہ رہناSabeen Yunus (b. 1957)
- میں سر دار مسکراتی رہیزندگانی سزا بڑھاتی رہیSabeen Yunus (b. 1957)
- نہیں ہو پائے گی تجھ پر عیاں آزردگی دل کیچھپا رکھی نہاں خانوں میں ہے افسردگی دل کیSabeen Yunus (b. 1957)
- نہ یہ انداز نہ لفظوں سے بیاں ہوتی ہےدل کی حالت تو نگاہوں سے عیاں ہوتی ہےSabeen Yunus (b. 1957)
- ہاتھ آگے کیا اور دست کرم تھام لیاسر جھکا پائی تو پلکوں سے حرم تھام لیاSabeen Yunus (b. 1957)
- ہم کو خوش رہنے کی اکثر جو دعا دیتے ہیںغم کا سامان بھی وہ خود ہی بنا دیتے ہیںSabeen Yunus (b. 1957)
- مرے سونے کیاور بیدار ہونے کیSabeen Yunus (b. 1957)
- ترے اختیار کی حد نہیںترے فیصلوں سے مفر نہیںSabeen Yunus (b. 1957)
- تکبر کا سفینہ اے ستم گر ڈوب جاتا ہےانا کے ایک قطرے میں سمندر ڈوب جاتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے بعدلوگ طوفان اٹھا لیتے ہیں الزام کے بعدM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- جدا شجر سے کسی برگ کو ہوا نہ کرےچمن میں باد مخالف چلے خدا نہ کرےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- چراغوں کو بجھانا چاہتا ہےاندھیرا مسکرانا چاہتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- خیر کو خیر شر کو شر کہناسر قلم ہو تو ہو مگر کہناM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- دل کو شہرت کا طلب گار نہ ہونے دیجےخود کو رسوا سر بازار نہ ہونے دیجےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- کل جو ممکن تھا آج ہے ہی نہیںدرد مند اب سماج ہے ہی نہیںM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- کوئی سنتا نہیں صحرا کی صدا ہو جیسےمیری فریاد بھی مفلس کی دعا ہو جیسےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- کہیں گلاب کہیں سبز گھاس رہنے دوچمن کو میرے ذرا خوش لباس رہنے دوM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- کہیں منزل کہیں رستہ پرانا چھوٹ جاتا ہےسفر میں زیست کے منظر سہانا چھوٹ جاتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- نہ آسمان کو چھو کر نہ ہی تکان کے بعدپرند لوٹ کے آیا ہے کچھ اڑان کے بعدM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- وہ خود سے دور ہوتا جا رہا ہےبہت مشہور ہوتا جا رہا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- آنگن انگن جاری دھوپمیرے گھر بھی آری دھوپZafar Tabish (b. 1957)
- بستی بستی جنگل جنگل گھوما میںلیکن اپنے گھر میں آ کر سویا میںZafar Tabish (b. 1957)
- بظاہر یوں تو میں سمٹا ہوا ہوںاگر سوچو تو پھر بکھرا ہوا ہوںZafar Tabish (b. 1957)
- کتنے ہاتھ سوالی ہیںکتنی جیبیں خالی ہیںZafar Tabish (b. 1957)
- گر گئے جب سبز منظر ٹوٹ کررہ گیا میں اپنے اندر ٹوٹ کرZafar Tabish (b. 1957)
- نہ کہو تم بھی کچھ نہ ہم بولیںآؤ خاموشیوں کے لب کھولیںZafar Tabish (b. 1957)