Poetry
Poet
Meter
- سنبھل سنبھل کے یہاں زندگی بسر کی ہےبڑی طویل کہانی تھی مختصر کی ہےKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
- عجب ہوا کہ پرندے اڑان بھول گئےزمیں پہ رہنے لگے آسمان بھول گئےKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
- کسی کو فکر جو دی ہے تو فن نہیں دیتاوہ سب کو ایک سا طرز سخن نہیں دیتاKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
- کوئی راز نہیں کوئی بھید نہیں سب ظاہر ہے تو چھپائیں کیاتم ضد پہ اڑے تم شک میں پڑے تم خود ہی کہو بتلائیں کیاKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
- کہہ چکے ہیں سب بچا کچھ بھی نہیںمیرے شعروں میں نیا کچھ بھیKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
- گرچہ محفوظ رہے پھول ثمر ہونے تکپھر انہیں روک نہ پاؤ گے شجر ہونے تکKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
- وہی زمانہ وہی ماہ و سال اوڑھے ہیںبہت دنوں سے تمہارا خیال اوڑھے ہیںKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
- آپ کو مجھ سے خفا مجھ سے خفا دیکھتا ہوںپھوٹتی کیوں نہیں آنکھیں مری کیا دیکھتا ہوںNadeem Fazli (b. 1959)
- اب اپنی ذات کا عرفان ہونے والا ہےخدا سے رابطہ آسان ہونے والا ہےNadeem Fazli (b. 1959)
- اپنی روداد یوں بیاں ہو جائےاک پتنگا جلے دھواں ہو جائےNadeem Fazli (b. 1959)
- اک قرب جو قربت کو رسائی نہیں دیتااک فاصلہ احساس جدائی نہیں دیتاNadeem Fazli (b. 1959)
- بصیرتوں کا نظر احترام کرتی ہےسماعتوں سے خموشی کلام کرتی ہےNadeem Fazli (b. 1959)
- جنم جنم کی تکان ہوتی نہ بال و پر میںجو چند لمحے گزار لیتا تری نظر میںNadeem Fazli (b. 1959)
- دل کی راہیں روشن کرتے رہتے ہیںکس کے گھنگھرو چھن چھن کرتے رہتے ہیںNadeem Fazli (b. 1959)
- رات کی زلف کہیں تا بہ کمر کھل جائےہم پہ بھی چاند ستاروں کی ڈگر کھل جائےNadeem Fazli (b. 1959)
- راز فطرت سے عیاں ہو کوئی منظر کوئی دھنساز ہستی سے بھی نکلے کوئی پیکر کوئی دھنNadeem Fazli (b. 1959)
- سب کو یہ فکر ہاتھ سے اب ایک پل نہ جائےدنیا حدود وقت سے آگے نکل نہ جائےNadeem Fazli (b. 1959)
- عجیب جنگ و جدال ہر پل ہے میرے اندرکہ نور و ظلمت کا ایک مقتل ہے میرے اندرNadeem Fazli (b. 1959)
- کسی بھی روشن خیال سے آشنا نہیں ہےجو آپ اپنے جمال سے آشنا نہیں ہےNadeem Fazli (b. 1959)
- کہاں کوئی خزانہ چاہتا ہوںذرا سا مسکرانا چاہتا ہوںNadeem Fazli (b. 1959)
- کی تو نے لب کشائی تو کس کے حضور کیاب کرچیاں سمیٹ دل ناصبور کیNadeem Fazli (b. 1959)
- مشکلیں خال خال چاہتے ہیںشوق میں اعتدال چاہتے ہیںNadeem Fazli (b. 1959)
- معرکہ ہی معرکہ چاروں طرفاک ہجوم کربلا چاروں طرفNadeem Fazli (b. 1959)
- وہ یک بہ یک اسے دل میں اتارنے کا عملوہ اپنی ذات پہ شب خون مارنے کا عملNadeem Fazli (b. 1959)
- ہر ایک بات کسی بات پر ہے گویا طنزمری زبان مری ذات پر ہے گویا طنزNadeem Fazli (b. 1959)
- ہمیں پہ تنگ یہ وقت رواں ہوا تو کیادراز اور بھی کار جہاں ہوا تو کیاNadeem Fazli (b. 1959)
- یوں خوش گمان رکھا گیا عمر بھر مجھےہر شام سے ملی ہے نوید سحر مجھےNadeem Fazli (b. 1959)
- آؤ ہم جنگل کو بچائیںپیڑ نہ کاٹیں پیڑ اگائیںAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- اکثر ہمارے خواب میں آتی ہیں ٹافیاںکھل جائے پھر جو آنکھ ستاتی ہیں ٹافیاںAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- پڑھنا لکھنا سکھائےاچھی راہ بتائےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- خدا کی یہ باتیں خدا جانتا ہےنکلتا ہے مشرق سے کس طرح سورجAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- دیکھو غریب کتنی زحمت اٹھا رہا ہےگلیوں میں بھیڑ والی رکشا چلا رہا ہےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- دیکھو کچن میں آیا کونچھوٹا سا یہ سایا کونAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- سنو پیارے بچو یہ قصہ نیامرے پیارے بھارت کے اک شہر کاAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- کیسے بنائی تو نے یہ کائنات پیاریحیران ہو رہی ہے عقل و خرد ہماریAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- میں کیا چاہتا ہوں ذرا مجھ سے پوچھویہ کہتے ہیں ابو کہ افسر بنوں میںAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- ناداں کوئی اک روز جو جنگل میں گیااخروٹ کے باغات کا منظر دیکھاAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- نماز کو جو جاؤ گےخدا کا قرب پاؤ گےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- وعدہ کیا تھا آپ نے مجھ سےیک شنبہ کو کھیر پکے گیAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- ہولی جب بھی آئےپیار کی خوشیاں لائےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- باقی ہے اب بھی ترک تمنا کی آرزوکیونکر کہوں کہ کوئی تمنا نہیں مجھےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- کاغذ تمام کلک تمام اور ہم تمامپر داستان شوق ابھی ناتمام ہےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
- گماں کی حد سے گزر کر یقیں کی حد میں آئےوہ آسمان اگر ہے زمیں کی حد میں آئےZafar Kamali (b. 1959)
- گھر میں رہتا ہوں تو پاؤں میں سفر جاگتا ہےجیسے آغوش میں دریا کے بھنور جاگتا ہےZafar Kamali (b. 1959)
- نام سے گاندھیؔ کے چڑھ بیر آزادی سے ہےنفرتوں کی کھاد ہیں الفت مگر کھادی سے ہےZafar Kamali (b. 1959)
- ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہےمرے حصے کی ٹوٹی چارپائی چھین لیتا ہےZafar Kamali (b. 1959)
- آتا ہے یاد مجھ کو اسکول کا زماناوہ دوستوں کی صحبت وہ قہقہے لگاناZafar Kamali (b. 1959)
- سمجھتا ہے اسے سارا زمانہکتابیں علم و حکمت کا خزانہZafar Kamali (b. 1959)
- کر دیں گے ہم اس پر اپنا تن من دھن قربانسب سے اچھا سب سے نیارا پیارا ہندوستانZafar Kamali (b. 1959)
- کسی کوے نے اک کوئل سے پوچھابتا بہنا کہ ہے یہ ماجرا کیاZafar Kamali (b. 1959)