Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. سنبھل سنبھل کے یہاں زندگی بسر کی ہےبڑی طویل کہانی تھی مختصر کی ہےKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
  2. عجب ہوا کہ پرندے اڑان بھول گئےزمیں پہ رہنے لگے آسمان بھول گئےKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
  3. کسی کو فکر جو دی ہے تو فن نہیں دیتاوہ سب کو ایک سا طرز سخن نہیں دیتاKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
  4. کوئی راز نہیں کوئی بھید نہیں سب ظاہر ہے تو چھپائیں کیاتم ضد پہ اڑے تم شک میں پڑے تم خود ہی کہو بتلائیں کیاKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
  5. کہہ چکے ہیں سب بچا کچھ بھی نہیںمیرے شعروں میں نیا کچھ بھیKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
  6. گرچہ محفوظ رہے پھول ثمر ہونے تکپھر انہیں روک نہ پاؤ گے شجر ہونے تکKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
  7. وہی زمانہ وہی ماہ و سال اوڑھے ہیںبہت دنوں سے تمہارا خیال اوڑھے ہیںKaleem Qaisar Balrampuri (b. 1958)
  8. آپ کو مجھ سے خفا مجھ سے خفا دیکھتا ہوںپھوٹتی کیوں نہیں آنکھیں مری کیا دیکھتا ہوںNadeem Fazli (b. 1959)
  9. اب اپنی ذات کا عرفان ہونے والا ہےخدا سے رابطہ آسان ہونے والا ہےNadeem Fazli (b. 1959)
  10. اپنی روداد یوں بیاں ہو جائےاک پتنگا جلے دھواں ہو جائےNadeem Fazli (b. 1959)
  11. اک قرب جو قربت کو رسائی نہیں دیتااک فاصلہ احساس جدائی نہیں دیتاNadeem Fazli (b. 1959)
  12. بصیرتوں کا نظر احترام کرتی ہےسماعتوں سے خموشی کلام کرتی ہےNadeem Fazli (b. 1959)
  13. جنم جنم کی تکان ہوتی نہ بال و پر میںجو چند لمحے گزار لیتا تری نظر میںNadeem Fazli (b. 1959)
  14. دل کی راہیں روشن کرتے رہتے ہیںکس کے گھنگھرو چھن چھن کرتے رہتے ہیںNadeem Fazli (b. 1959)
  15. رات کی زلف کہیں تا بہ کمر کھل جائےہم پہ بھی چاند ستاروں کی ڈگر کھل جائےNadeem Fazli (b. 1959)
  16. راز فطرت سے عیاں ہو کوئی منظر کوئی دھنساز ہستی سے بھی نکلے کوئی پیکر کوئی دھنNadeem Fazli (b. 1959)
  17. سب کو یہ فکر ہاتھ سے اب ایک پل نہ جائےدنیا حدود وقت سے آگے نکل نہ جائےNadeem Fazli (b. 1959)
  18. عجیب جنگ و جدال ہر پل ہے میرے اندرکہ نور و ظلمت کا ایک مقتل ہے میرے اندرNadeem Fazli (b. 1959)
  19. کسی بھی روشن خیال سے آشنا نہیں ہےجو آپ اپنے جمال سے آشنا نہیں ہےNadeem Fazli (b. 1959)
  20. کہاں کوئی خزانہ چاہتا ہوںذرا سا مسکرانا چاہتا ہوںNadeem Fazli (b. 1959)
  21. کی تو نے لب کشائی تو کس کے حضور کیاب کرچیاں سمیٹ دل ناصبور کیNadeem Fazli (b. 1959)
  22. مشکلیں خال خال چاہتے ہیںشوق میں اعتدال چاہتے ہیںNadeem Fazli (b. 1959)
  23. معرکہ ہی معرکہ چاروں طرفاک ہجوم کربلا چاروں طرفNadeem Fazli (b. 1959)
  24. وہ یک بہ یک اسے دل میں اتارنے کا عملوہ اپنی ذات پہ شب خون مارنے کا عملNadeem Fazli (b. 1959)
  25. ہر ایک بات کسی بات پر ہے گویا طنزمری زبان مری ذات پر ہے گویا طنزNadeem Fazli (b. 1959)
  26. ہمیں پہ تنگ یہ وقت رواں ہوا تو کیادراز اور بھی کار جہاں ہوا تو کیاNadeem Fazli (b. 1959)
  27. یوں خوش گمان رکھا گیا عمر بھر مجھےہر شام سے ملی ہے نوید سحر مجھےNadeem Fazli (b. 1959)
  28. آؤ ہم جنگل کو بچائیںپیڑ نہ کاٹیں پیڑ اگائیںAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  29. اکثر ہمارے خواب میں آتی ہیں ٹافیاںکھل جائے پھر جو آنکھ ستاتی ہیں ٹافیاںAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  30. پڑھنا لکھنا سکھائےاچھی راہ بتائےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  31. خدا کی یہ باتیں خدا جانتا ہےنکلتا ہے مشرق سے کس طرح سورجAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  32. دیکھو غریب کتنی زحمت اٹھا رہا ہےگلیوں میں بھیڑ والی رکشا چلا رہا ہےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  33. دیکھو کچن میں آیا کونچھوٹا سا یہ سایا کونAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  34. سنو پیارے بچو یہ قصہ نیامرے پیارے بھارت کے اک شہر کاAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  35. کیسے بنائی تو نے یہ کائنات پیاریحیران ہو رہی ہے عقل و خرد ہماریAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  36. میں کیا چاہتا ہوں ذرا مجھ سے پوچھویہ کہتے ہیں ابو کہ افسر بنوں میںAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  37. ناداں کوئی اک روز جو جنگل میں گیااخروٹ کے باغات کا منظر دیکھاAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  38. نماز کو جو جاؤ گےخدا کا قرب پاؤ گےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  39. وعدہ کیا تھا آپ نے مجھ سےیک شنبہ کو کھیر پکے گیAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  40. ہولی جب بھی آئےپیار کی خوشیاں لائےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  41. باقی ہے اب بھی ترک تمنا کی آرزوکیونکر کہوں کہ کوئی تمنا نہیں مجھےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  42. کاغذ تمام کلک تمام اور ہم تمامپر داستان شوق ابھی ناتمام ہےAadil Aseer Dehlvi (1959–2014)
  43. گماں کی حد سے گزر کر یقیں کی حد میں آئےوہ آسمان اگر ہے زمیں کی حد میں آئےZafar Kamali (b. 1959)
  44. گھر میں رہتا ہوں تو پاؤں میں سفر جاگتا ہےجیسے آغوش میں دریا کے بھنور جاگتا ہےZafar Kamali (b. 1959)
  45. نام سے گاندھیؔ کے چڑھ بیر آزادی سے ہےنفرتوں کی کھاد ہیں الفت مگر کھادی سے ہےZafar Kamali (b. 1959)
  46. ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہےمرے حصے کی ٹوٹی چارپائی چھین لیتا ہےZafar Kamali (b. 1959)
  47. آتا ہے یاد مجھ کو اسکول کا زماناوہ دوستوں کی صحبت وہ قہقہے لگاناZafar Kamali (b. 1959)
  48. سمجھتا ہے اسے سارا زمانہکتابیں علم و حکمت کا خزانہZafar Kamali (b. 1959)
  49. کر دیں گے ہم اس پر اپنا تن من دھن قربانسب سے اچھا سب سے نیارا پیارا ہندوستانZafar Kamali (b. 1959)
  50. کسی کوے نے اک کوئل سے پوچھابتا بہنا کہ ہے یہ ماجرا کیاZafar Kamali (b. 1959)