Poetry
Poet
Meter
- کیا کہیں روز صبح ہوتے ہییہ مسافر کہاں سے آتے ہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- جھیل کے پانی میں لہریں اٹھ رہی ہیںایک پتا گر چکا ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- کیا بتلائیںکیسے کیسےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- بڑھ رہا تھاچلچلاتی دھوپ میں آگےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- تھوڑی سوکھی گھاسکھلاؤBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- چاروں اور خاموشیچاروں اور سناٹاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- چلو ہم اپنے گھر کی چھت پرلٹکا دیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- رکھ کے صندوق نیچے کھڑا ہو گیابیچ رستے میں وہBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- روپ سر سے پاؤں تک دھارے ہوئےبھگوان کاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- سمندروں سے گھرے ہوئے انگنت جزیرےالگ الگ ایک دوسرے سےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- نہ پھینکوطاق میں اس کو سنبھال کر رکھوBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- یہ شہر غم کے اندھیروں میں روشنی جیسایہ شہرBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفےگھبرائے ہوئے پیکر اکتائے ہوئے چہرےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میںدھیمے سروں میں گائے جو بابل تو ہم سنیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- اے ہم نفسو! شب ہے گراں جاگتے رہناہر لحظہ ہے یاں خطرۂ جاں جاگتے رہناOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- پہلے گھرے تھے بے خبروں کے ہجوم میںاب آ گئے ہیں دیدہ وروں کے ہجوم میںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تاریکی میں دیپ جلائے انساں کتنا پیارا ہےراہیں ڈھونڈے منزل پائے انساں کتنا پیارا ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شامساغر کی طرح روز چھلکنے لگی ہے شامOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تمہی سردار ہو گلشن کے یہ بتلا دیناکوئی ہمسر ہو تو دیوار میں چنوا دیناOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گاآنے والا دن لئے ہاتھوں میں خنجر آئے گاOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گےہمارا غم ہے مظلوموں کا غم یہ غم نہ بیچیں گےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- رونق کوچہ و بازار ہیں تیری آنکھیںلوگ سودا ہیں خریدار ہیں تیری آنکھیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- غمگیں ہیں دل فگار ہیں میرے یہاں کے لوگدامان تار تار ہیں میرے یہاں کے لوگOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہےمیں پتا لگا چکا ہوں تو کہاں کہاں چھپا ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجےاک پھول سا کھل جائیے اب دیر نہ کیجےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- اقلیت کہیں کی ہو تہ خنجر ہی رہتی ہےہلاکت خیز ہاتھوں کے ہزاروں جبر سہتی ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- اے لیلیٔ جمہوریتاے دلبر ہندوستاںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تجربے گرچہ یہ بتاتے ہیںوقت بے رحم اک سپاہی ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- تیرے بھی دل میں ہوک سی اٹھے خدا کرےتو بھی ہماری یاد میں تڑپے خدا کرےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- دبلا پتلا نازک دوراںؔشیشہ جیسا نازک دوراںؔOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- رونے کی عمر ہے نہ سسکنے کی عمر ہےجام نشاط بن کے چھلکنے کی عمر ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- سہیلی یوں تو کچھ کچھ سانولے سے ہیں مرے ساجنمگر تیری قسم بے حد رسیلے ہیں مرے ساجنOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- یہ ایڈن گارڈن ہمدم نگاہ و دل کی جنت ہےیہاں حوا کی رنگیں بیٹیاں ہر شام آتی ہیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- میں بھوکی نسل ہوںمیرے ملول و مضمحل چہرہ پہOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ان مکانوں میں بھی انسان ہی رہتے ہوں گےرونقیں جن میں نہیں آپ کی محفل کی سیOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- بہتی نہیں ہے مرد کی آنکھوں سے جوئے اشکلیکن ہمیں بتاؤ کہ ہم کس لئے ہنسیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- ہم شاعر حیات ہیں ہم شاعر حیات!دوراںؔ وہ سرخ رنگ کا پرچم تو دو ہمیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- یہ زیست کہ ہے پھول سی مٹ جائے بلا سےگلچیں سے مگر بر سر پیکار ہی رہئےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھےاپنے ہی داغ نظر بھر دیکھےEhsan Akbar (b. 1938)
- پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگےروبرو کون تھا جو آئنہ حیراں سے لگےEhsan Akbar (b. 1938)
- خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہےمگر جو شخص کل ابھرے گا میرے خواب میں ہےEhsan Akbar (b. 1938)
- کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتےخود آئینوں کا بھی احساں قبول کیا کرتےEhsan Akbar (b. 1938)
- کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہےابھی کھلتا نہیں کیا وقت کا تیور بدلتا ہےEhsan Akbar (b. 1938)
- ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوارفضائے شہر بنی بیش و کم در و دیوارEhsan Akbar (b. 1938)
- ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہےپھر یہ پوچھوں کہ یہ پردا ہے تو جلوہ کیا ہےEhsan Akbar (b. 1938)
- بچپنے کی دنیا تھیجس کے دم سے دم لیتیEhsan Akbar (b. 1938)
- شہر لا مکاں سے ہوںجس میں اک مکاں میراEhsan Akbar (b. 1938)
- یہ رنگ و نکہت میں بہتی دنیایہ حسن صورت یہ جلوہ گاہیںEhsan Akbar (b. 1938)
- آنکھ ہی درد پہچانتی ہےمیں اس روٹ پرEhsan Akbar (b. 1938)
- جدائی اور کیا ہے میں جسے سہتا نہیں رہتایہ تم سے روز کا ملناEhsan Akbar (b. 1938)