Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کیا کہیں روز صبح ہوتے ہییہ مسافر کہاں سے آتے ہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  2. جھیل کے پانی میں لہریں اٹھ رہی ہیںایک پتا گر چکا ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  3. کیا بتلائیںکیسے کیسےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  4. بڑھ رہا تھاچلچلاتی دھوپ میں آگےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  5. تھوڑی سوکھی گھاسکھلاؤBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  6. چاروں اور خاموشیچاروں اور سناٹاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  7. چلو ہم اپنے گھر کی چھت پرلٹکا دیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  8. رکھ کے صندوق نیچے کھڑا ہو گیابیچ رستے میں وہBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  9. روپ سر سے پاؤں تک دھارے ہوئےبھگوان کاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  10. سمندروں سے گھرے ہوئے انگنت جزیرےالگ الگ ایک دوسرے سےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  11. نہ پھینکوطاق میں اس کو سنبھال کر رکھوBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  12. یہ شہر غم کے اندھیروں میں روشنی جیسایہ شہرBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  13. اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفےگھبرائے ہوئے پیکر اکتائے ہوئے چہرےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  14. ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میںدھیمے سروں میں گائے جو بابل تو ہم سنیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  15. اے ہم نفسو! شب ہے گراں جاگتے رہناہر لحظہ ہے یاں خطرۂ جاں جاگتے رہناOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  16. پہلے گھرے تھے بے خبروں کے ہجوم میںاب آ گئے ہیں دیدہ وروں کے ہجوم میںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  17. تاریکی میں دیپ جلائے انساں کتنا پیارا ہےراہیں ڈھونڈے منزل پائے انساں کتنا پیارا ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  18. تم آ گئے ہو جب سے کھٹکنے لگی ہے شامساغر کی طرح روز چھلکنے لگی ہے شامOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  19. تمہی سردار ہو گلشن کے یہ بتلا دیناکوئی ہمسر ہو تو دیوار میں چنوا دیناOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  20. چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گاآنے والا دن لئے ہاتھوں میں خنجر آئے گاOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  21. خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گےہمارا غم ہے مظلوموں کا غم یہ غم نہ بیچیں گےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  22. رونق کوچہ و بازار ہیں تیری آنکھیںلوگ سودا ہیں خریدار ہیں تیری آنکھیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  23. غمگیں ہیں دل فگار ہیں میرے یہاں کے لوگدامان تار تار ہیں میرے یہاں کے لوگOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  24. مرے نارسا تصور نے سراغ پا لیا ہےمیں پتا لگا چکا ہوں تو کہاں کہاں چھپا ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  25. ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجےاک پھول سا کھل جائیے اب دیر نہ کیجےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  26. اقلیت کہیں کی ہو تہ خنجر ہی رہتی ہےہلاکت خیز ہاتھوں کے ہزاروں جبر سہتی ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  27. اے لیلیٔ جمہوریتاے دلبر ہندوستاںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  28. تجربے گرچہ یہ بتاتے ہیںوقت بے رحم اک سپاہی ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  29. تیرے بھی دل میں ہوک سی اٹھے خدا کرےتو بھی ہماری یاد میں تڑپے خدا کرےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  30. دبلا پتلا نازک دوراںؔشیشہ جیسا نازک دوراںؔOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  31. رونے کی عمر ہے نہ سسکنے کی عمر ہےجام نشاط بن کے چھلکنے کی عمر ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  32. سہیلی یوں تو کچھ کچھ سانولے سے ہیں مرے ساجنمگر تیری قسم بے حد رسیلے ہیں مرے ساجنOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  33. یہ ایڈن گارڈن ہمدم نگاہ و دل کی جنت ہےیہاں حوا کی رنگیں بیٹیاں ہر شام آتی ہیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  34. میں بھوکی نسل ہوںمیرے ملول و مضمحل چہرہ پہOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  35. ان مکانوں میں بھی انسان ہی رہتے ہوں گےرونقیں جن میں نہیں آپ کی محفل کی سیOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  36. بہتی نہیں ہے مرد کی آنکھوں سے جوئے اشکلیکن ہمیں بتاؤ کہ ہم کس لئے ہنسیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  37. ہم شاعر حیات ہیں ہم شاعر حیات!دوراںؔ وہ سرخ رنگ کا پرچم تو دو ہمیںOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  38. یہ زیست کہ ہے پھول سی مٹ جائے بلا سےگلچیں سے مگر بر سر پیکار ہی رہئےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
  39. آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھےاپنے ہی داغ نظر بھر دیکھےEhsan Akbar (b. 1938)
  40. پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگےروبرو کون تھا جو آئنہ حیراں سے لگےEhsan Akbar (b. 1938)
  41. خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہےمگر جو شخص کل ابھرے گا میرے خواب میں ہےEhsan Akbar (b. 1938)
  42. کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتےخود آئینوں کا بھی احساں قبول کیا کرتےEhsan Akbar (b. 1938)
  43. کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہےابھی کھلتا نہیں کیا وقت کا تیور بدلتا ہےEhsan Akbar (b. 1938)
  44. ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوارفضائے شہر بنی بیش و کم در و دیوارEhsan Akbar (b. 1938)
  45. ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہےپھر یہ پوچھوں کہ یہ پردا ہے تو جلوہ کیا ہےEhsan Akbar (b. 1938)
  46. بچپنے کی دنیا تھیجس کے دم سے دم لیتیEhsan Akbar (b. 1938)
  47. شہر لا مکاں سے ہوںجس میں اک مکاں میراEhsan Akbar (b. 1938)
  48. یہ رنگ و نکہت میں بہتی دنیایہ حسن صورت یہ جلوہ گاہیںEhsan Akbar (b. 1938)
  49. آنکھ ہی درد پہچانتی ہےمیں اس روٹ پرEhsan Akbar (b. 1938)
  50. جدائی اور کیا ہے میں جسے سہتا نہیں رہتایہ تم سے روز کا ملناEhsan Akbar (b. 1938)