یہ شہر غم کے اندھیروں میں روشنی جیسا

Badiuzzaman Khawar (1938–1990)

یہ شہر غم کے اندھیروں میں روشنی جیسا

یہ شہر

موت کی وادی میں زندگی جیسا

یہ شہر

جو کبھی دلی دکھائی دیتا ہے

یہ شہر

جو کبھی لگتا ہے بمبئی جیسا

کبھی اکیلے میں

اس شہر کی سیاست پر جو سوچتا ہوں

تو لگتا ہے

ایک دھوکا ہے

یہ شہر

جس کی فضاؤں سے میں نے جوڑا ہے

اک ایسا رشتۂ امید

جو عظیم بھی ہے

اک ایسا رشتۂ امید

جو قدیم بھی ہے

یہ شہر

جس کے لیے اپنا گاؤں چھوڑا

یہ شہر

رہ کے جہاں قتل ہو رہا ہوں میں

یہ شہر

آ کے جہاں

پچھلے آٹھ برسوں سے

بکھر رہا ہوں

وجود اپنا کھو رہا ہوں میں